جنوبی وزیرستان : عوامی نیشنل پارٹی کے زیرقیادت ڈسٹرکٹ پریس کلب میں تقریب

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

عوامی نیشنل پارٹی کے زیرقیادت جنوبی وزیرستان ڈسٹرکٹ پریس کلب میں تقریب منعقد ہوا جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما و سابق امیدوار باجوڑ مرکزی کونسل ممبر سمیت علاقے کے مشران اور نوجونانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فاٹا انضمام کا تین سال پورے ہونے کے باوجود جنوبی وزیرستان کے دفاتر ٹانک میں موجود یے۔ ان کو جلد اپنی ضلع جنوبی وزیرستان منتقل کرنا چاہیے۔

اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی جنوبی وزیرستان کے سینئر و سابق امیدوار صوبائی اسمبلی رہنما تاج وزیر نے کہا کہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کو 2018 میں عام انتخابات سے قبل صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وعدوں اور اعلانات کے باوجود ان علاقوں میں ترقیاتی کام اور فلاح و بہبود کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

خیبر پختونخوا کے رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں سات قبائلی اضلاع اور چھ ‘فرنٹیر ریجنز‘ کے لیے مجموعی طور پر 83 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ لیکن اب تک صرف 26 ارب روپے ہی مختلف محکموں کو فراہم کیے گئے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی جنوبی وزیرستان کے سینئر رہنما و سابق امیدوار قومی اسمبلی آیاز وزیر نے کہا کہ حکام کے مطابق ابھی تک فراہم کردہ رقم میں سے صرف 13 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ باقی رقم وفاق اور صوبائی حکومت کو واپس جانے کا اندیشہ ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی جنوبی وزیرستان کے سینئر رہنما نثارلالا کا کہنا تھا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر 1980 کی دہائی کے آغاز تک ملک کے مغربی سرحد پر واقع قبائلی علاقہ جات کو برطانوی سامراج کے چھوڑے ہوئے فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کے تحت چلایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نہ تو انتظامی اور نہ ہی ترقیاتی اعتبار سے یہ اہم خطہ کسی بھی حکومت کی ترجیح رہی جبکہ افغانستان میں روسی مداخلت نے اسے مزاحمتی تحریک کا مرکز بنا دیا۔

سابقہ امیدوار باجوڑ مرکزی کونسل ممبر شیخ جاندار کا کہنا تھا کہ فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد سے قبل حکومت کا پلان تھا کہ گذشتہ برس دسمبر تک علاقے سے بےدخل ہوئے تمام قبائلیوں کو واپس اپنے علاقوں میں بھیج دیا جائے گا۔

اس منصوبے پر سو فیصد عمل درآمد اب تک نہیں ہوسکا ہے اور اب حکومت کو امید ہے کہ یہ ہدف اس سال تک حاصل کر لیا جائے گا۔ واپسی کے لیے 80 ارب روپے کی رقم کا اندازہ لگایا گیا تھا لیکن اب تک محض 30 ارب ہی جاری کیے گئے ہیں۔

صوبائی ممبر کونسل شیرین آفریدی کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کی بات کی جاتی ہے تو ذہن میں یہ رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ وہ پسماندگی کی کس سطح پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2003 سے قبل جب شدت پسندی کی لہر نے اس خطے میں آگ لگائی یہ علاقہ پہلے ہی انسانی ترقی کے انڈیکس میں تمام ملک سے پیچھے تھا۔ پھر شدت پسندی نے یہاں کی جو اینٹ سے اینٹ بجائی تو یہ ترقی کے میدان میں کئی دہائیاں پیچھے چلا گیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کی بات کریں تو سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یہاں شرح خواندگی محض 33 فیصد ہے جو کہ قومی سطح پر یہ شرح 58 فیصد ہے۔ فاٹا میں عورتوں کی شرح خواندگی تو صرف 12 فیصد ہے۔

انہوں نے صحت کے شعبے میں ایک لاکھ افراد میں اموات کی قومی شرح 275 ہے تو فاٹا میں یہ شرح 400 ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کو کم از کم پانچ فیصد اضافی ترقیاتی فنڈز بھی دیے جائیں تاکہ ان علاقوں کو جلد قومی دھارے میں لایا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ فاٹا کے عوام کے ساتھ کھیل کھیلا رہے ہیں، جو سراسر ظلم و ناانصافی ہے۔