طالبان حکومت افغانستان میں امن و استحکام کو یقینی بنائی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ نئی سیاسی حکومت افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مربوط کوششوں کو یقینی بنائے گی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے افعانستان میں نئی طالبان حکومت کے قیام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے کابل میں عبوری سیاسی سیٹ اپ کے قیام کے بارے میں تازہ ترین اعلان نوٹ کیا ہے، جو افغانستان کے لوگوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گورننس ڈھانچے کی ضرورت کو پورا کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ نئی سیاسی حکومت افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مربوط کوششوں کو یقینی بنائے گی اور ساتھ ہی افغان عوام کی انسانی اور ترقیاتی ضروریات کا خیال رکھنے کے لیے کام کرے گی.

انہوں نے کہا کہ پاکستان پرامن، مستحکم، خود مختار اور خوشحال افغانستان کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہےکہ قریبی ہمسائے کی حیثیت سے پاکستان افغانستان سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔

امریکا اور جرمنی کی میزبانی میں افغانستان سے متعلق ورچوئل وزارتی رابطہ اجلاس ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اظہار خیال کیا۔

محمود قریشی نے کہا کہ مستحکم اور پر امن افغانستان ہی عالمی برادری کا بہتر شراکت دار بن سکتا ہے، قریبی ہمسائے کی حیثیت سے پاکستان افغانستان سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کی درخواست پر غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کے محفوظ انخلا میں بھر پور معاونت کی، افغانستان کی سابق حکومت کے خاتمے کے بعد مہاجرین کا بڑا بحران سامنے نہیں آیا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان عوام کے مسائل کے حل کیلئے عالمی برادری کی پائیدار امداد کی ضرورت ہے، پاکستان پہلے ہی رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ 40لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔

شاہ محمود نے مزید کہا کہ امریکا کے 10 ارب ڈالر منجمند کرنے سے افغانستان میں معاشی بحران جنم لے سکتا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کا امن و استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے کیونکہ پاکستان گزشتہ 40 سالوں سے افغانستان میں جاری جنگ سے شدید متاثر ہو۔

انہوں نے کہا کہ افغان جنگ کے خاتمے کے حوالے سے صدر بائیڈن کے 31 اگست کے پیغام کو سراہتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں آج افغانستان کی صورتحال یکسر بدل چکی ہیں، اب  افغانستان میں پائیدار امن کیلئے علاقائی و عالمی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، وہاں ایک انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، افغانستان میں خوراک کی کمی اور افراط زر سے متعلق رپورٹس سب کے سامنے ہیں جب کہ افغان مہاجرین کی جس یلغار کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا تھا وہ بظاہر ٹل گیا ہے۔

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ایسا سیاسی خلا پیدا نہ ہونے دیا جائے جس میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہو، تشویش ہے القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین کو استعمال نہ کریں، پاکستان نہیں چاہے گا کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بنے۔