کرک کے سپاہی کا 1965 کی جنگ میں کارنامے کی ایک انوکھی داستان

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

 پاکستان و ہند کی 1965 جنگ سے زیادہ حق و باطل کی جھڑپ تھی جس میں پاکستانی سپاہیوں نے جرات و بہادری کی ایسی مثالیں قائم کی ہے جو کبھی بلائی نہیں جاسکیں گی۔

اس جنگ میں اگر ایک طرف میجر عزیز بھٹی شہید نے بی آر بی نہر پر لاہور کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تو دوسری جانب پاکستان رینجرز کے سپاہی نیاز بادشاہ نے بھی اپنی جان ناموس وطن پر نچھاور کردی.

اس شہید کی داستان شجاعت ہم تک انڈین آرمی کے لیفٹیننٹ کرنل اجیت سنگھ کے زریعے پہنچی ہے جو بذات خود دشمن کی طرف سے ایک سپاہی کے لیے خراج عقیدت ہے.

سپاہی نیاز بادشاہ ستارہ جرات نے ضلع کرک میں لتمــــبر کے مقام پر یکم اکتوبر 1930کو خٹک گھرانے میں آنکھ کھولی. گاوں کے ماحول کی مناسبت سے ابتدائی تعلیم سے محروم رہے تاہم بچپن ہی سے فن سپہ گری میں طاق ہو گئے کچھ یوں بھی کہ

فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

حوالہ (سرحدی محافظ)

نوجوانی میں آپ والد صاحب کے کہنے پر بکریاں چرایا کرتے تھے جس کی وجہ سے اپ کے دل سے ڈر نکلتا گیا مگر کس کو معلوم تھا کہ یہ بچہ وطن کا سپاہی بن کر جواں مردی کے وہ جوہر دکھائے گا کہ جسکی داستان شجاعت اور قومی حمیت اور سربلندی تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ کر دے گی.

اس جوان نے 1965 میں بھارت کے حملے کے دوران بے نظیر کمال حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے دشمن پر ان گنت کاری ضربیں لگائیں.

جب 6ستمبر کو صبح صادق کے وقت دشمن نے بغیر اعلان جنگ کے پاکستان کے جامن چوکی کے علاقے میں پیش قدمی شروع کر دی تو چوکی پر موجود سپاہ نے دشمن کامقابلہ کرنے کا فیصلہ کر لیا.

رپورٹ کے مطابق پوسٹ پر سپاہی نیاز بادشاہ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے اس پر ٹوٹل سات سپاہیوں کی ڈیوٹی تھی جن میں سے دو چھٹی پر تھے اور تین ہیڈ کوارٹر مدد طلب کرنے چلے گئے باقی بچنے والوں میں ایک جوان کا تعلق ہنگو سے تھا جو کہ جلد ہی شہید ہو گئے.

اس وقت سپاہی نیاز بادشاہ اکیلا دشمن کے خلاف نبرد آزما تھے اورچاروں طرف سے دشمن کا فائر چل رہا تھا لیکن اس شیر دل جوان نے حوصلہ نہ ہارا وہ اپنی لائٹ گن سے دشمن کے سپاہیوں کو نشانہ بناتے رہے.

ان کی بہادری کے بدولت دشمن نے مجبور ہو کر چوکی کے پیچھے سے حملہ کردیا دشمن نے گرنیڈ چوکی پر پھینکا نیاز بادشاہ نے حاضر دماغی سے فورا گرنیڈ کو دشمن کی طرف واپس پھینک دیا جس سے دشمن کی بہت بڑی تعداد ہلاک ہوئی.

اسی طرح کئ دفعہ دشمن نے کوشش کی لیکن نیاز بادشاہ ہر دفعہ ان کی چال ان ہی پر پلٹ دیتا.

اس موقع پر دشمن کا کمپنی کمانڈر بوجہ مجبوری آگے بڑھا اور آواز لگائی کہ ہتھیار ڈال دو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے صرف قیدی بنا لینگے. آپ نے غصے سے چیخ کر کہا ہم دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتے.

دشمن کے کمانڈر نے کمال ہوشیاری سے ایک سپاہی کو حکم دیا کہ گرنیڈ تیار کرو جب گرنیڈ کی پن نکال لی گئ تو کچھ دیر دشمن نے گرنیڈ کو ہاتھ میں رکھا اور چوکی کے اندر پھینک دیا جس کو سپاہی نیاز بادشاہ نے واپس پھینکنا چاہا لیکن ٹائم پورا ہو چکا تھا اور گرنیڈ آپ کے سینے کے قریب پھٹ گیا آپ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور شدید زخمی ہوگئے.

دشمن کے کمانڈر نے کچھ سپاہیوں کو چوکی کے اندر بھیجا اور اپ کا نام، پتہ اور یونٹ معلوم کی. اس کے بعد 6 ستمبر 1965 کو صبح 8بجے آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے دشمن نے آپ کی بہادری کی تعریف کی جس کے صلے میں آپ کو سرکاری نشان (ستارہ جرات) سے نوازا گیا.

اپ کی قبر میلہ قبرستان لتمــــبر میں موجود ہے. اپ کی میت آپ کے چچا زاد بھائی صوبیدار جان بادشاہ لتمــــبر لے کر آئے آپ کا تعلق ستلج رینجرز سے تھا.

جب تک نہ جلے دیپ شہیدوں کے لہو سے
کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا