پاکستان افغانستان کیساتھ کھڑا ہے اور امید ہے دنیا بھی تنہا نہیں چھوڑے گی، آرمی چیف

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حفاظت وسلامتی کیلیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور اگر دشمن آزمانا چاہتا ہے تو وہ ہمیں ہر لمحہ اور ہر محاذ پر تیار پائے گا۔

جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع وشہدا کی تقریب ہوئی جس میں صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور وفاقی وزرا سمیت کابینہ کے ارکان شریک ہوئے۔

تقریب میں شہدا کے لواحقین، غازی، حاضر سروس، ریٹائرڈ عسکری حکام اورجوان بھی شریک تھے۔

یوم شہدا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دفاع وطن ایک مقدس فریضہ ہے جو ہمیں جان سے بھی زیادہ عزیز ہے

انہوں نے کہا کہ ہر آزمائش میں ہم نے ثابت کیا کہ پاک فوج اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتی ہے، دفاع وطن کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں جنگ کی نوعیت بدل گئی ہے، پاکستان کی حفاظت وسلامتی کے لیے ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور دشمن آزمانا چاہتا ہے تو ہمیں ہر لمحہ اور ہر محاذ پر تیار پائے گا

انہوں نے کہا کہ دشمن کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے جبکہ آپ کے پیاروں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائے گی، ہم اپنے شہیدوں کو کبھی نہیں بھولے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسئلہ کشمیرکی حیثیت کلیدی ہے، کشمیر کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارت کے 5 اگست کے اقدامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں سیدعلی گیلانی کی طویل جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، امید کرتے ہیں دنیا اس مشکل وقت میں افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑے گی، پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے اور افغانستان میں قیام امن کیلئے دنیا سے ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہیں

انہوں نے کہا افغان عوام نے جنگ کے دوران بہت مشکلات کا سامنا کیا ہے، غیر ملکی انخلا کے بعد افغانستان میں قیام امن کا ایک موقع ملا ہے، افغانستان میں خواتین سمیت انسانی حقوق کا احترام ہونا چاہیے۔

پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ طاقت کا استعمال صرف اور صرف ریاست کا اختیار ہے، کسی شخص کو علاقائی یا لسانیت کی بنیاد پر ریاست کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ہمیں اندرونی خلفشار پھیلانے والے عناصر کیساتھ سختی سے نمٹنا ہوگا.

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں، دشمن کے منفی عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ جمہوریت میں پاکستان کی مضبوطی اور بقا ہے، ہم سب کو آئین کی پاسداری، برداشت اور رواری کو فروغ دینا ہوگا.

پاک فوج کا سربرا نے کہا کہ پاکستان کو اعتدال پسند اور جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے، تنقید برائے تنقید اور ذاتی عناد کو پس پشت ڈالنا ہوگا، روایتی یا غیر روایتی جنگ ہو، پاک فوج نے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا تاہم عوامی تعاون کے بغیر کوئی بھی فوج ہو وہ ریت کی دیوارثابت ہوتی ہے۔