وزیراعظم کی بل ادا کرنیوالے علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعظم نے بجلی کے بلوں کی ادائیگی کرنے والے صارفین کو لوڈشیڈنگ کی دقت سے بچانے کے لئے توانائی ڈویژن کو ہدایت کردی۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں توانائی ڈویژن نے اجلاس کو بجلی کی پیداواری اضافے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ بندی دس سال کے لیے کی جاتی ہے.

انہوں نے کہا کہ ہر سال طلب و رسد کے مطابق ان تخمینوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ضروریات کے مطابق حکمت عملی میں ضروری تبدیلیاں کی جاتی ہیں، اس پلان کا مقصد توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنا اور صارفین کو سستی بجلی فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی ڈویژن نے آگاہ کیا کہ اس ضمن میں تمام صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر حکومت سے تفصیلی مشاورت کی گئی ہے۔

وزیر اعظم نے بجلی کے بلوں کی باقاعدگی سے ادائیگی کرنے والے صارفین کو لوڈ شیڈنگ کی دقت سے بچانے کے لئے توانائی ڈویژن کو ہدایت دی کہ وہ ایسے گرڈ اسٹیشنز میں جہاں و صولیوں کا تناسب کم ہے وہاں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لائیں تاکہ ایسے صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ آئی جی سیپ کا بنیادی مقصد توانائی کے شعبے میں مستقبل کے لئے جامع لائحہ عمل مرتب کرنا ہے تاکہ ضرورت کے مطابق بجلی کی پیداوار کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو کم قیمت پر بجلی فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کے حکومت بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے طریقہ کار میں اصلاحات لا رہی ہے تاکہ اس نظام کو موثر بنایا جا سکے۔

بعد ازاں مشترکہ مفادات کونسل نے مجوزہ آئی جی سیپ تخمینوں کی منظوری دی، کونسل نے پن بجلی کو قابل تجدید توانائی کے اہداف میں شامل کرنے کی بھی منظوری دی۔

کونسل نے توانائی ڈویژن کو ہدایت کی کہ ”وہیلنگ“ پالیسی کو جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ اس کا نفاذ یقینی بنایا جاسکے۔