چمن، پاک افغان بارڈر آمد و رفت کیلئے مکمل طور پر بند

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

حکومت پاکستان نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر افغانستان سے متصل چمن بارڈر کو آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

بعض ذرائع کے مطابق چمن بارڈر کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کی حکومت کے خاتمے اور طالبان کی آمد کے بعد پاک افغان بارڈر کو کچھ مدت کے لئے بند رکھنے اور دوبارہ کھولنے کا سلسلہ جاری ہے۔

بلوچستان میں طالبان کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود ہے، البتہ بارڈر پر انتطامیہ کی جانب سے آمد و رفت کرنے والوں کی چیکنگ میں سختی دیکھنے کو ملی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ خطرات کے پیش نظر چمن بارڈر کو تھوڑے وقت کے لیے بند کر رہے ہیں۔

اسلام آباد کے نون پولیس اسٹیشن کی نئی عمارت سے خطاب کے دوران شیخ رشید نے کہا کہ اسلام آباد ہمارا دارالحکومت ہے جس پر ساری دنیا کی نظر ہے، اسلام آباد میں ناکے ختم کر دئیے ہیں تاہم ایگل اسکواڈ میں اضافہ کیا جائے گا.

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کی نفری میں 1500 کا اضافہ کیا جارہا ہے، جلد 1122 کا بھی افتتاح کردیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے چیئرمین سی ڈی اے کو کیمروں سے متعلق ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسلام آباد کا ایک کونہ بھی کیمرے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے، افغان سفیر کی بیٹی کے کیس میں کیمروں کی مدد لی گئی تھی ، اسلام آباد کے لیے ایک ہزار 200 کیمروں کی منظوری دی گئی ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ خطے میں پاکستان کا اہم کردار سامنے آرہا ہے اور اہمیت اختیار کر رہا ہے، یہ ملک کو آگے لے جانے کا وقت ہے لیکن ہم انتشار پھیلانے نہیں دیں گے، کوئی امریکی پاکستان میں نہیں ہیں جو آئے تھے وہ چلے گئے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان سے 10 ہزار لوگوں کو آنے کی اجازت دی جس میں سے 9 ہزار اپنے ملکوں کو چلے گئے ہیں، قوم کے بچے بچے کو پاک فوج، آئی ایس آئی اور ایم آئی پر فخر ہے.

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال سے انڈیا میں صف ماتم بچھا ہوا ہے، را اور این ڈی ایس کی ساری سیاست ختم ہوگئی ہے۔