افغانیوں نے نقل مکانی کی تو پاکستان انہیں رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، یوسف رضا گیلانی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

سابق وزیراعظم و قائد حزب اختلاف سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عالمی دنیا کو افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا، اگر وہاں خانہ جنگی ہوئی تو اس کے اثرات پاکستان پر پڑیں گے، ہم نہیں چاہتے کہ ہماری یا ان کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف ہو.

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہماری روایات اور مذہب کے حوالے سے ہم آہنگی ہے، پیپلزپارٹی نے ایوان بالا میں دوتہائی اکثریت سے الگ صوبے کا بل منظور کرایا مگر اپوزیشن نے تعاون نہیں کیا اور اب پی ٹی آئی نے تین مہینے میں صوبہ بنانے کا وعدہ کیا.

انہوں نے کہا کہ تین سال گزرنے کے باوجود صوبہ تو دور کی بات سیکریٹریٹ بھی نہیں بناسکی، ہمیں سیکریٹریٹ نہیں مکمل خود مختار صوبہ چاہیئے۔

حریت رہنما سید علی گیلانی نے 60سال سے آزادی کی جنگ لڑی لیکن ان کا جنازہ نہیں پڑھنے دیا گیا، انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں، عمران خان کا آزادکشمیر میں ریفرنڈم کے اعلان کو مسترد کرتے ہیں.

انہوں نے سردار عطا اللہ زیرک سیاستدان تھے، جن کے ساتھ پی ڈی ایم میں کام کرنے کا موقع ملا، اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے۔ ا

ن خیالات کا اظہار انہوں نے سرائیکستان قومی کونسل، سرائیکی ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام بعنوان بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں پاکستان کو درپیش چیلنجز اور سرائیکی وسیب پر اثرات پریس کلب میں منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا۔

سید یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ اب افغانستان میں سنگین دور گزر رہا ہے، عالمی طاقتوں کو سوچنا چاہیئے کہ وہاں کیا مسائل سامنے آ سکتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ افغانیوں نے نقل مکانی کی تو پاکستان انہیں رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ سودیت یونین کے حملہ کے وقت 35لاکھ افغان مہاجرین پاکستان آئے، کاروبار کئے، تعلیم حاصل کی، شادیاں کیں اور ان کی کئی نسلیں آباد ہیں.

انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت کو بھول چکی ہے، وہاں امریکی انخلا ہو چکا ہے اور اب وہاں طالبان کی حکومت ہے، اسی لئے دنیا، عالمی اور خطے کی طاقتوں کو دانشمندی کے ساتھ سوچنا چاہیئے کہ ناکامی کی صورتحال میں ادویات اور خوراک کا بحران آسکتا ہے.

انہوں نے حکومت مضبوط اور یکجہتی سے نہ بنی اور اتحاد نہ ہوا وہ اسلحہ کہیں اور استعمال ہو سکتا ہے، خطرات موجود ہیں ہمیں بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے، آج ہر کوئی اپنے آپ کو خارجہ پالیسی کا ماہر سمجھ رہا ہے لیکن خارجہ پالیسی پر عبور نہیں ہے.

انہوں نے کہا کہ امریکہ، یورپی یونین، او آئی سی سمیت عالمی طاقتوں سے تسلی اور ٹھنڈے مزاج سے پوچھنا پڑے گا کہ افغانستان میں امن، استحکام کیسے آسکے گا، وہاں جتنی پولیٹیکل فورسز ہیں اگر کوئی لڑائی ہوئی اور خانہ جنگی ہوئی تو اس کے اثرات پاکستان پر پڑیں گے.

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی ہم معاشی بحران کا شکار ہیں، اس پر غور کرنا چاہیئے میں تمام سٹیک ہولڈرز،اور طالبان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ سنجیدگی سے انسانی، معاشی، اقلیتی، خواتین، بچوں اور تعلیم کے حقوق کا خیال رکھیں، جتنے سرکاری ملازمین کام کر رہے ہیں ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم نے پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے اجلاس میں بھی انہی تحفظات کا اظہارکیا کہ وہاں پر انسانی، معاشی، اقلیتی، خواتین، بچوں، تعلیم کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور جو دہشت گرد تنظیمیں ہیں ان کو کنٹرول کیا جائے تاکہ پاکستان کا امن خراب نہ ہو.

انہوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان اور پاکستان میں انڈیا کی دخل اندازی کے خلاف کاروائیاں بھی کیں، جاسوس پکڑے، ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان مضبوط ہو، خوشحال ہو، طالبان نے ماہ محرم میں جو اقدامات کئے وہ بہتر ہیں مگر مستقل بنیادوں پر اقدامات ہونے چاہیئں۔