وزیراعظم نے مستحق گھرانوں کیلئے احساس سکول وظائف کا افتتاح کر دیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے عوام ہوتے ہیں، جب انہیں تعلیم نہیں دی جائے گی تو نہ صرف وہ سرمایہ ضائع ہوگا بلکہ یہ ظلم اور ناانصافی بھی ہے کہ انہیں اوپر آنے کا موقع ہی نہ دیا جائے۔

احساس تعلیمی وظائف پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو یہ پروگرام لانچ کیا ہے، اس کے 2 اہم پہلو ہیں، پہلا یہ کہ ملک میں اسکول نہ جانے والے 2 کروڑ بچوں کو بنیادی تعلیم دی جائے، کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا اسکول نہ جانا بہت بڑا المیہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ پروگرام اس مسئلے کا حل پیش کر رہا ہے، جس کے تحت بچوں کو اسکولز میں لانے کی کوشش کی جائے گی، یہ مسئلہ زیادہ تر غریب گھرانوں میں ہوتا ہے، اس لیے انہیں معاوضے اور مراعات دی جائیں گی۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسکول نہ جانے والے بچوں میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے، ہم نے تعلیم کو اہمیت نہیں دی، لیکن خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے ہمارا اتنا بڑا اثاثہ ضائع ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک تعلیم یافتہ خاتون، ایک مرد سے زیادہ معاشرے کو فائدہ پہنچاتی ہے، کیونکہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دیتی ہے، گھر کا نظام بدل دیتی ہے اور گھر میں بچوں کی صحت اور بہتر دیکھ بھال کا معاشرے پر بہت اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام میں لڑکیوں کو زیادہ مراعات دی گئی ہیں، لڑکوں کے لیے تعلیمی وظیفہ ڈیڑھ ہزار روپے جبکہ لڑکیوں کے لیے 2 ہزار روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں یہ تاثر ہے کہ گویا ہم اپنی بچیوں کو پڑھانا نہیں چاہتے، ایسا بالکل نہیں ہے۔

میں پاکستان کے تمام علاقوں میں گیا ہوں، شاید ہی کسی نے پاکستان کو اس طرح دیکھا ہو، جو میں نے دیکھا ہے، ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں والدین اپنی بیٹیوں کو تعلیم نہ دلوانا چاہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم میں مختلف مسائل حائل ہوتے ہیں، کئی مرتبہ اسکولز دور ہوتے ہیں یا ان میں اساتذہ ہی نہیں ہوتے، لیکن حکومت کی ذمہ داری تھی کہ سہولیات فراہم کی جاتیں، جو نہیں کی گئیں.

انہوں نے کہا کہ میں خاص طور پر تاکید کرتا ہوں کہ ہمیں لڑکیوں کو اسکولز آنے کی ترغیب دینی چاہیئے۔