امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا، بائیڈن

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا، ہم نے داعش کی کمر توڑی دی، انخلا کا فیصلہ میرا اپنا تھا جس کی تمام تر ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔

افغان جنگ کے خاتمے اور اتحادی افواج کے افغانستان سے مکمل انخلا کے بعد امریکی قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ روس اور چین چاہتے ہیں امریکا افغانستان میں الجھا رہے.

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ تھا، یہ فیصلہ میرا تھا کیوں کہ طالبان آرہے تھے اور ہمیں جنگ بڑھانے یا وہاں سے نکل جانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میرے اس فیصلے کی فوجی اور سول قیادت نے بھرپور تائید کی ہے اور میں اس فیصلے کی تمام تر ذمہ دار قبول کرتا ہوں.

انہوں نے کہا کہ افغان جنگ دو دہائیوں تک جاری رہی، جو لوگ تیسری دہائی میں بھی افغان جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کہوں گا کہ یہ اب ممکن نہ تھا کیوں کہ اب افغانستان سے ہماری سرزمین پر حملے کا کوئی امکان نہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میرا اولین فرض ہے کہ امریکا کا دفاع کیا جائے اور اب امریکا کو 11 ستمبر جیسے خطرے کا سامنا نہیں ہے، ہم نے افغانستان میں داعش کی کمر توڑ دی.

انہوں نے کہا کہ ہماری ہزاروں افواج اور اربوں ڈالر خرچ ہوئے ہیں، اب دہشت گردی دیگر ممالک تک پھیل رہی ہے ہمیں اس کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا۔

جوبائیڈن نے کہا کہ ہم نے طالبان کو دی گئی 31 اگست کی انخلا کی ڈیڈ لائن پر عمل کیا اگر اس تاریخ کے بعد بھی کابل ایئرپورٹ خالی نہ کرتے تو دو طرفہ تناؤ میں اضافہ ہوتا۔

انھوں ںے کہا کہ میں نے افغانستان چھوڑنے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے چھ ہزار فوجی کابل ایئرپورٹ بھیجے جنھوں نے امریکی اور غیر ملکی سفارت کاروں، امریکی شہریوں اور افغان باشندوں کا باحفاظت انخلا کا چیلنج مکمل کیا، میں کامیاب انخلا پر سفارت کاروں اور فوجیوں کا شکر گزار ہوں۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ہم نے ایک لاکھ افغانوں کو فضائی پروازوں کے ذریعے افغانستان سے نکالا جو تاریخ میں پہلی مرتبہ ممکن ہوا ہے، یہ بہت مشکل اور خطرناک مشن تھا لیکن ہم نے اسے مکمل کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم 90 فیصد امریکی شہریوں کو افغانستان سے نکال چکے ہیں، مجھے یقین ہے کہ افغانستان میں اب بھی سو سے 200 امریکی شہری موجود ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں ہم ان کی مدد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو امریکا پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور ان کے اتحادیوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ سن لیں کہ ہم آرام سے نہیں بیٹھے ہوئے، ہم زمین کے آخری کنارے تک ان کا مقابلہ کریں گے.

انہوں نے کہا کہ میں اپنے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اب افغان جنگ ختم ہوچکی ہے اور میں نے اس جنگ کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، 20 سالہ طویل جنگ کے بعد میں نے اگلی نسل کو افغان جنگ میں جھونکنے کا انکار کردیا تھا اور اب میں نے اس پر عمل کر دکھایا ہے۔

طالبان کی حکومت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ہم طالبان کے الفاظ پر یقین نہیں کریں گے ہم ان کے عمل کو دیکھیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ سابق افغان صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہو جائے گا۔

اس موقع پر انہوں نے افریقہ میں شدت پسند تنظیم الشباب اور دیگر ممالک میں داعش کا بھی ذکر کیا کہ ان سے امریکا کو بچایا جائے گا۔

انہوں نے روسی سائبر حملوں، ایٹمی پھیلاؤ اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھی امریکا کے لیے چیلنج قرار دیا جسے انہوں نے اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے چیلنجز قرار دیا۔