افغانستان سے امریکی انخلا مکمل

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

امریکہ نے پیر کی رات افغانستان سے اپنا انخلا مکمل کر لیا ہے جس کے ساتھ ہی امریکہ کی طویل ترین جنگ کا اختتام بھی ہو گیا ہے۔ 20 سال بعد امریکہ کی انخلاء کو پاکستان میں سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اسے امریکہ کی ناکامی اور شکست قرار دیا گیا ہے۔

انخلا کے عمل کے دوران خودکش بم دھماکوں سے 180 سے زائد افغان باشندے اور امریکی سروسز کے 13 اہل کاروں کی جانیں گئی ہیں جن میں سے کچھ کی عمریں اس جنگ کی طوالت سے کچھ ہی زیادہ تھیں۔

دو ہفتوں کے دوران کابل ائیرپورٹ سے ہزاروں افغان باشندوں کو نکال کر امریکی فورس واپس چلی گئی۔ 20 سال پر محیط اس جنگ میں 2400 سے زیادہ امریکی فوجیوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک میک کینزی نے نیوز بریفنگ کے دوران افغانستان سے انخلا کے عمل کا مکمل ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس جنگ کے دوران دو ہزار 461 امریکی اہلکار اور شہری ہلاک ہوئے جب کہ 20 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں نے ایک لاکھ 23 ہزار سے زیادہ شہریوں کو کابل سے نکالا ہے جب کہ متعدد افراد اب بھی افغانستان میں ہی موجود ہیں۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے اور امریکی انخلاء کو پاکستان میں امریکہ کی شکست قرار دیا گیا ہے، پاکستان کے معروف صحافی سلیم صافی نے اپنے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ “تاریخی رات۔۔۔پینٹگان کا اعلان کہ ان کا آخری جہازفوجی کمانڈر اورامریکی سفیرکو لےکرافغانستان سےنکل گیا۔

سوویت یونین کے بعد بیس سالہ ناکام جنگ کے بعد امریکہ کوبھی افغانستان میں شکست افغانستان مکمل طور پر طالبان کے حوالے۔سراج الدین حقانی کے بدری لشکر نے ایئرپورٹ کی سیکورٹی سنبھال لی”۔

دوسری جانب افغانستان سے امریکہ کے انخلاء پر شدید ہوائی فائرنگ شروع کر دی گئی جس سے ایئرپورٹ کے ارد گرد لوگوں میں خوف پھیل گئی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ فائرنگ کی آوازوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ فائرنگ امریکی فوج کے انخلا کی خوشی میں ہے۔