خیبر پختونخوا : ویکسی نیشن نہ کرانیوالوں کی موبائل سم بند کرنیکا اعلان

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Khyber Pakhtunkhwa: Announcement to block mobile SIMs of non-vaccinators

وزیر صحت خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا اور صوبائی مشیر اطلاعات کامران بنگش نے کہا ہے کہ جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی ان کی موبائل سم بند کریں گے۔

پشاور میں معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ صوبائی ٹاسک فورس اجلاس میں کورونا کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا، داخلہ اور صحت کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بریفنگ دی۔

صوبائی وزراء نے کہا کہ کورونا کی چوتھی لہر بھارت سے آئی ہے اور یہ زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے، گزشتہ روز صوبے میں کورونا کی مثبت شرح 5.2 فیصد شرح رہی، اس وقت صوابی، سوات، نوشہرہ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے 13 اسپتالوں میں 1360 کورونا مریض زیرعلاج ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اب تک صوبے میں 73 لاکھ سے زائد کورونا ویکسین لگائی جاچکی ہے، اس طرح صوبے کی 30 فیصد آبادی کو کم ازکم ایک خوراک مل چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2 ماہ میں ایک کروڑ افراد کو ویکسین لگائیں گے، جنہوں نے رجسٹریشن کی ہے ان میں سے 76 فیصد کوویکسین لگ چکی ہے، ویکسین 95 سے 99 فیصد تک تحفظ فراہم کرتی ہے، اسکولوں میں سترہ اور پھر پندرہ سال عمر تک ویکسین شروع کررہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ تعلیم بھی بچانا چاہتے ہیں، سب سے زیادہ ویکسی نیشن چترال میں ہوئی ہے جہاں کی 65.8 فیصد آبادی کی ویکسینیشن ہوچکی ہے جن میں سے 40 فیصد کو دونوں خوراکیں دی جاچکی ہیں۔

صوبائی وزراء کا کہنا تھا کہ ہمیں ایبٹ آباد، پشاور اور مردان سمیت کئی اضلاع میں ویکسی نیشن میں چیلنجز کا سامنا ہے، ان اضلاع میں سزا اور جزا کا عمل شروع کرنا پڑے گا۔ کورونا ویکسین لگوانے کے لیے ہمیں سختی کرنی پڑے گی، جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی ان کی موبائل سم بند کریں گے، ضرورت پڑنے پر ملازمین کی تبخواہیں روکی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم فوج سے بھی اس سلسلے میں مدد لے رہے ہیں جس کے لیے طریقہ کار وضع کیا جارہا ہے۔

کورونا ویکسی نیشن لگائے بغیر بنوائے گئے سرٹیفکیٹ کم اور ہمارے نوٹس میں ہیں، ہم اس عمل کو روکنے کے لیے نظام کو نظام بہتر کررہے ہیں۔

صوبائی وزراء نے کہا کہ ماسک پہننا، سماجی فاصلہ برقرار رکھنا اور گھروں و شادی ہالوں کے اندر تقریبات پر پابندی ہے، اسکولوں یا بازاروں کی بندش نہیں چاہتے تاہم حالات خراب ہوئے تو سخت فیصلے بھی ہوں گے۔

تاجر برادری ہی کو معاشی طور پر مسائل کاسامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے وہ ویکسینیشن میں تعاون کریں، مزید پابندیاں لگانی پڑیں تو سب کو مسائل ہوں گے۔ کورونا کی صورت حال کے باعث ہر صورت ہفتہ وار دو چھٹیاں اور رات 8 بجے کاروبار بند ہوں گے۔