شمالی وزیرستان: میرعلی بازار مسائل کا گڑھ بن چکا ہے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

شمالی وزیرستان کے میرعلی بازار میں ٹریفک اور باقی مسائل کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس حوالے سے نمائندہ نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے تحصیل میر علی بازار کے اندر مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے پچھلے کئی سالوں سے ٹریفک کی بد نظمی سے لوگ پریشان ہیں اور صرف دو، تین ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مین چوک پر ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے اور وہ صرف چند گھنٹوں کے لئے آتے ہیں جسکی وجہ سے ٹریفک سمیت باقی مسائل بھی زیادہ ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق ضلعی انتظامیہ ٹریفک قوانین کے لئے بنائے گئے قانون پر کوئی عملدر آمد نہیں کر رہی ہے اور ہر دوکاندار نے اپنا سامان سڑک کنارے رکھا ہوا ہے جسکی وجہ راستے پر ہر آنے جانے والے کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شمالی وزیرستان میرعلی بازار میں نہ صرف ٹریفک کا مسئلہ ہے بلکہ اس علاقے کے عوام بجلی اور پانی کی سہولت سے بھی محروم ہے خواتین اور بچوں کو دور دراز کے علاقوں سے پانی لانا پڑتا ہے زیادہ لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے اور کاروباری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

شمالی وزیرستان تحصیل میر علی گاؤں موسکی سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر رہنما شفقت داوڑ نے ٹی این این سے اپنی گفتگو میں کہا کہ قبائیلی علاقہ جات کو صوبے مٰیں ضم کردیا گیا ہے مگر پھر بھی شمالی وزیرستان کے عوام بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔

عوام کے بار بار احتجاج کے باوجود حکومت یا کسی بھی ضلعی انتظامیہ کے ادارے نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی کسی مسئلے کو حل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے.

شفقت داوڑ نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر میر علی بازار میں ٹریفک کامسئلہ حل نہ کیا گیا تو ہم ٹریفک پولیس کے خلاف پر امن احتجاج پر مجبور ہو جائینگے اور دوران احتجاج مطالبات نہ ماننے کی صورت میں پشاور میں وزیر اعلئ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔

دوسری طرف پختونخوا ملی پارٹی کے ضلعی صدر فصیخ اللہ داوڑ کا کہنا ہے کہ میر علی میں ہر جگہ نظام درہم برہم ہے جس کے باعث حکومت کی کارکردگی کا پول کھل گیا ہے اس لئے ہم ڈی پی او شمالی وزیرستان سے درخواست کرتے ہیں کہ پورے میر علی بازار میں کے مسائل کو سنجیدگی کی نظر سے دیکھا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر اس کے حل کا راستہ تلاش کیا جائے۔

اس معاملے پر ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرتے ہوئے موقف دیا کہ ہم دن رات بازار میں ٹریفک بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ہم سڑک کنارے رکھے ہوئے سامان کو ہٹانے کے لئے کاروائی کرتے ہیں تو پھر دوکاندار حضرات ہمارے خلاف احتجاج کرنے سڑکوں پر نکل آتے ہیں لہذا پولیس عوام سے بھی تعاون کی اپیل کرتی ہے۔