ٹک ٹاک پر پابندی کا معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کا معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم دے دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار کی جانب سے مریم فرید ایڈوکیٹ، پی ٹی اے سے منور اقبال دوگل جب کہ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت عالیہ نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ ٹک ٹاک اس وقت ملک بھر میں کھلا ہے یا بند؟ جس پر پی ٹی اے کے وکیل نے کہا کہ ملک میں پروکسی کے ذریعے تقریباً 99 فیصد ٹک ٹاک کھلا ہے۔

عدالت نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ٹیکنالوجی کو شکست نہیں دے سکتے تو پھر آپ ایسا کیوں کررہے ہیں؟ سوشل میڈیا ایپس پر پابندی باہر کی دنیا میں کیوں نہیں ہورہی، وہاں تو قانون بھی سخت ہے، پی ٹی اے کیوں اس ملک کو دنیا سے کاٹنا چاہتا ہے؟

عدالت نے استفسار کیا کہ پی ٹی اے کو حکومت سے پالیسی لینے کا کہا تھا کیا حکومت نے کوئی پالیسی دی ہے؟ کہا تھا کہ پی ٹی اے وفاقی کابینہ سے ہدایات لے اس کا کیا بنا؟

انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے نے عدالتی احکامات پر وفاقی کابینہ سے پالیسی کے حوالے سے ہدایات کیوں نہیں لیں؟. اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کا معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم دے دیا۔