صوبائی حکومت: 8 اضلاع میں ایک بار پھر سخت پابندیاں لگانے کے احکامات

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر آٹھ اضلاع میں سخت پابندیاں لگانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان اضلاع میں مردان، نوشہرہ، صوابی، چترال اپر، چترال لوئر، کوہاٹ، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان اور مانسہرہ شامل ہیں۔

پابندیاں کیا ہوگی؟

صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان اضلاع میں ۲۳ اگست سے میڈیکل سٹور، کریانہ، تندور اور دیگر ضروری اشیاء کے علاوہ باقی تمام تجارتی سرگرمیاں شام اٹھ بجے کے بعد بند رہے گی۔

تاہم اس ضمن میں دنوں کے انتخاب کا معاملہ ضلعی انتظامیوں پر چھوڑ دیا ہے تا کہ وہ تاجروں سے مشورے کے بعد چھٹی کے لئے دن منتخب کرسکیں۔

اس کے علاوہ شادی ہالز میں بھی انڈور پروگرامات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ آوٹ ڈور پروگرامات میں بھی ہالز کو ۳۰۰ سے زائد مہمانوں کو جمع نہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

حکومت نے ان زیادہ متاثرہ اضلاع کے بین الاضلاع اور بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی صرف پچاس فیصد مسافروں کے ساتھ اپریٹ کرنے کی اجازت دی۔ اس ضمن میں انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہے کہ ان ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

تمام سنیما ہالز اور کھیلوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ صرف ان افراد کو انڈور جیم کی اجازت ہو گی جنہوں نے ویکسین لگوا لی ہو۔

گزشتہ دن کورونا سے خیبر پختونخوا میں اٹھارہ افراد جاں بحق جبکہ ۷۷۰ میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

مثبت شرح

محکمہ صحت کے مطابق پچھلے دن ایبٹ آباد اور پشاور میں مثبت کیسز کی شرح ۱۴ فیصد سے زائد، جبکہ مردان میں آٹھ فیصد اور نوشہرہ میں سات فیصد سے زائد رہا۔

جن اضلاع میں پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے وہاں پر پچھلے ایک ہفتے سے کیسز کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔