بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو افغان طالبان سے رابطہ رکھنے کی تجویز دیدی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو طالبان سے رابطہ کرنے کی تجویز دے دی۔

کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت دہشت گردی پر سمجھوتہ نہ کرے، نیشنل ایکشن پلان پر فی الفور عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت امن و امان پر توجہ نہیں دے گی تو حالات خراب ہوسکتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر فوری پالیسی بنائی جائے، پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے۔

پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان ہر ایشو پر بار بار یو ٹرن لیتے ہیں، ہم اس وقت یوٹرن برداشت نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کی سکیورٹی کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور طالبان سے رابطہ رکھا جائے، حکومت یقینی بنائے کہ پاکستان پر افغانستان کے حالات کے اثرات نہ ہوں۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا تو افغان مہاجرین کی آمد ہوسکتی ہے، حکومت امن و امان پر توجہ نہیں دے گی تو حالات خراب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنانا ہوگی، ہم تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ محرم کے مہینے کا خیال رکھا جائے۔ پی پی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو پنپنے نہ دیا جائے، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل کیا جائے.

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی تیاری کرنی چاہیئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، پاکستان میں گمراہ کن طبقوں سے بات چیت کرکے پرامن حل نکالنا چاہیئے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر پارلیمان کو آن بورڈ لیا جائے، پاکستان کی سکیورٹی کو خطرات ضرور ہیں، ابھی تک افغانستان میں صورتحال واضح نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی پالیسی فوری بنانا ہوگی، پاکستان کے عوام دہشت گردی کو سپورٹ نہیں کرتے، اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کو رد کیا جانا چاہیئے۔

پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ دہشت گرد تنظیموں نے پاکستان کے شہریوں، سیاستدانوں، صحافیوں اور افواج پاکستان کو نشانہ بنایا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گرد تنظیموں پر فوج اور ہم میں کنفیوژن نہیں، کنفیوژن ہے تو عمران خان میں ہے، افغانستان میں نمائندہ حکومت کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔