28 ہزار لیویز و خاصہ دار خیبرپختونخوا پولیس میں ضم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خاصہ دار فورس برطانوی حکومت نے امن و آمان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سب پہلے وزیرستان میں قاٸم کی تھی بعد میں جسے دیگر قباٸلی علاقوں تک بھی توسیع دی گٸی، خاصہ دار اہلکار مقامی آبادی سے ہی بھرتی کیے جاتے۔ پاکستان بننے کے بعد لیویز فورس کا قیام عمل میں آیا، پولیٹیکل انتظامیہ میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں کرتی جبکہ یہ دونوں فورسز وفاق کے ماتحت تھیں۔

قباٸلی اضلاع کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں انضمام کے بعد ان دونوں کی حیثیت ختم ہوگٸی جس کے بعد ایک آرڈننس کے ذریعے انہیں خیبر پختونخواہ حکومت کے اختیار میں لایا گیا۔

آرڈننس کی آٸینی مدت پوری ہونے کے بعد 12 ستمبر کو خیبر پختونخواہ اسمبلی نے دو بل خیبر پخونخواہ خاصہ دارفورس ایکٹ اور خیبر پختونخواہ لیویز فورس ایکٹ 2019 کی منظوری دے دی تھی جس میں خاصہ دار اور لیویز کی حیثیت برقرار رکھی گٸ.

اپوزیشن اور لیویز خاصہ دار فورسسز کی پختونخواہ لیویز فورس ایکٹ 2019 پر تحفظات کی بدولت خیبرپختونخوا کابینہ نے لیویز اور خاصہ دار فورس کو خیبرپختونخوا پولیس میں ضم کرنے اور کے پی سپیشل پولیس فورس کو مستقل کرنے کے قانون کی منظوریدے دی.

صوبائی کابینہ کا اجلاس وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی صدارت منگل کے روز پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے لیویز اور خاصہ دار فورس کی مستقبل کے بارے میں جووعدے کئے تھے وہ آج ہم نے پورے کردیے۔

لیویز اور خاصہ دار فورس کی پولیس میں انضمام کے قانون کی منظوری سے اب یہ فورس مستقل طورپر صوبائی پولیس میں ضم ہوں گے۔

خیبرپختونخوا کابینہ نے خاصہ دار اور لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے قانون لیویز فورس رولز ٢٠١٩ اور خاصہ دار فورس رولز ٢٠١٩ کی منظوری دے دی ہے۔جس کے تحت ضم شدہ قبائلی اضلاع میں تعینات لیویز اور خاصہ دار فورسز کو مستقل بنیادوں پر صوبائی پولیس میں ضم کردیا جائے گا۔

انضمام کے بعد دونوں فورسز کو پولیس ایس فور س کی تمام مراعات،سہولیات اور فوائد حاصل ہوں گے. پولیس میں ضم ہونے وا لے لیویز اور خاصہ دار فورس کے ملازمین کی سنیارٹی ان کی پہلی تقرری کے دن سے شمار ہوگی۔

آل خاصہ دار فورس ایکشن کمیٹی کے چیئرمین سید جلال وزیر کا کہنا تھا کہ آئی جی خیبرپختونخوا ڈاکٹر نعیم نے یقین دلایا کہ اگلے چھ ہفتوں میں خاصہ دار اور لیویز کے پولیس میں انضمام کا عمل مکمل ہوجائے گا۔

سید جلال وزیر کے مطابق چھ ہفتوں کے اس مقررہ وقت کے دوران خاصہ داروں اور لیویز کی سنیارٹی لسٹوں کی ترتیب اور دیگر ضروری کارروائی پوری کی جائے گی اور یہ کہ اس سلسلے میں ہر قبائلی ضلع اور سب ڈویژن کی سطح پر ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو اپنی سفارشات آئی جی کو پیش کرے گی جو ان کی فوری منظوری دیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ صوبائی حکومت کے اس فیصلے سے مطمئن ہیں اور انہیں توقع ہے کہ اس بار ان کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔