پاک افغان طورخم بارڈر ہرقسم آمدروفت کے لیے کھلا ہے: کسٹم حکام

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاک افغان طورخم بارڈر ہرقسم آمدروفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ طورخم کسٹم حکام کے مطابق اتوار کے روز صبح سے عصر 5 بجے تک بارڈر آمدورفت اور دوطرفہ تجارت کے لئے بند رہا.

پاکستان کی طرف سے بارڈر پر سخت سیکیورٹی نافذ تھی، شام کے وقت طورخم بارڈر کو دونوں طرف سے تجارتی مال بردار گاڑیوں کے لئے کھول دیا گیا گاڑیاں روانہ ہوگئیں۔

پاک افغان طورخم بارڈر اور افغان گمرک سمیت جلال آباد پر گزشتہ نصف شب کو تحریک طالبان افغانستان نے فتح کرکے کامیابی کا اعلان کر دیا.

طورخم گمرک طالبان کے قبضے میں آنے کے بعد طورخم بارڈر پر لوگوں کی آمدورفت بند کر دی گئی اور مال بردار گاڑیوں کے پہیے بھی روک دئے گئے سوشل میڈیا پر طالبان کے قبضے کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی.

افغان طورخم طالبان کے قبضے میں آنے کے بعد کسٹم کلئیرنس بند ہوگئی اور کسٹم ایجنٹس واپس آئے دوسری طرف سیکیورٹی فورسز نے لنڈی کوتل میچنی چیک پوسٹ سے آگے کسی کو جانے نہیں دیا اور بارڈر پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے تاہم شام کے قریب بارڈر کو تجارتی سرگرمیوں کی غرض سے کھول دیا گیا اور دونوں اطراف سے مال بردار گاڑیاں روانہ ہوگئیں جس پر کاروباری لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔

پاکستان طورخم بارڈر کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز اور دیگر گاڑیاں افغانستان روانہ ہوگئیں جبکہ افغانستان سے پاکستان کو فروٹ سبزی اور دیگر گاڑیاں طورخم بارڈر کے راستے داخل ہوگئیں طورخم بارڈر تجارتی سرگرمیوں کے لئے کھولا رہنے کے حوالے سے سرکاری حکام نے تصدیق کردی. کئی روز سے افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ طالبان طورخم بارڈر اور افغان تجارتی مرکز گمرک پر قبضہ کرینگے۔

ذرائع نے بتایا کہ ننگرہار کے گورنر ضیاءالحق امر خیل طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے تھے جس کی اطلاع ملتے ہی طالبان نے بہت آسانی سے اور بغیر کسی مزاحمت کے افغان طورخم اور گمرک پر فتح کے جھنڈے گاڑ دیئے۔

صبح جب بارڈر بند ہوا تو لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کئی روز تک طورخم بارڈر بند رہیگا جس سے عام لوگوں اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہوگی تاہم شام کے قریب بارڈر تجارتی سرگرمیوں کے لئے کھول دیا گیا جس سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تاہم ابھی تک پیدل چلنے والوں کے حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔