افغانستان کی صورتحال پر وزیر خارجہ اور برطانوی ہم منصب میں رابطہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور برطانوی ہم منصب ڈومینک راب کے مابین ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں ںے افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور آگے بڑھنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

شاہ محمود قریشی نے برطانوی ہم منصب سے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کی واپسی کا پاکستان سے زیادہ کوئی ملک خواہاں نہیں ہوسکتا، افغان فریقین کے بے لچک رویوں سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی.

انہوں نے کہا کہ طالبان کے مقابلے میں افغان سکیورٹی فورسز ریت کی دیوار ثابت ہوئیں جس پر عالمی برادری حیران ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کابل سے سفارتکاروں اور عالمی برادری کے افراد کے انخلاء میں سہولت فراہم کر رہے ہیں، صورتحال پر ہماری مسلسل نگاہ ہے، افغان رہنما امن اور مفاہمتی عمل کے لیے عالمی برادری کی واضح حمایت کا فائدہ اٹھائیں.

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کا افغان رہنماؤں کے ساتھ رابطہ استوار رکھنا انتہائی ناگزیر ہے، مذاکرات کے ذریعے پُرامن تصفیہ کے سوا آگے بڑھنے کاکوئی راستہ نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امن اور مفاہمت کی راہ اپنانے کے لئے تمام فریقین پر زور دیتے رہیں گے، افغانستان میں خانہ جنگی کا ایک نیا دور شروع ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے، افغانستان میں خانہ جنگی کے ہمسایہ ممالک کے لئے نہایت منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے.

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر اور باہر سے خرابی پیدا کرنے والوں سے خبردار رہنا نہایت ضروری ہے، خرابی پیدا کرنے والے عناصر صورتحال کو اپنے فائدے میں استعمال کرسکتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ امن عمل کے لئے پاکستان کے کردار کا بڑے پیمانے پر اعتراف کیا گیا، پاکستان افغانستان میں خانہ جنگی کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہر نے ہمیں سرحد پر نقل وحرکت کا جائزہ لینے پر مجبور کیا ہے، سرحدی کنٹرول، شہروں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن اور دیگر اقدامات سے وبا پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں، کورونا میں اضافہ سے بچنے کے لئے سرحدوں پر صورتحال کا مسلسل مشاہدہ جاری رکھیں گے۔

انہوں نے برطانوی وزیر خارجہ سے کہا کہ سفر سے متعلق ’ریڈ لسٹ‘ سے بھارت کا نام نکالنے کے برطانوی فیصلے پر حکومت پاکستان کو تشویش ہے، پاکستان کا نام فہرست میں برقرار رکھنے سے دوہری شہریت رکھنے والوں کو تکالیف کا سامنا ہے، امید کرتے ہیں کہ برطانوی حکومت پاکستان سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا۔