طالبان کابل کے صدارتی محل پر قابض، عام معافی کا اعلان

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

افغانستان کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس میں طالبان کے مسلح کمانڈر نے کابل میں واقع صدارتی محل پر قبضہ کرلیا ہے، جہاں سے بعض تصاویر اور ویڈیو جاری کی گئی ہیں۔

یہ قبضہ افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی کے فرار کے چند گھنٹوں بعد ہوا ہے جبکہ طالبان نے کہا ہے کہ حکومت اور فوج کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو عام معافی دی جائے گی اور انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔

سابق افغان صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی طالبان نے کابل میں واقع صدارتی محل پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل طالبان نے جلال آباد اور مزار شریف کو فتح کرنے کے بعد کابل کا گھیراؤ کر لیا تھا، جس پر صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر تاجکستان چلے گئے.

تاہم صدارتی محل میں اب بھی اقتدار کی پُرامن منتقلی کے لیے طالبان اور کابل حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم مذاکرات میں شامل افغان رہنماء عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ “اس موقع پر سابق صدر افغانستان عوام کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔”

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدارتی محل میں جاری مذاکرات کے بعد صدر اشرف غنی اہل خانہ اور ساتھیوں سمیت ملک چھوڑ کر تاجکستان چلے گئے جبکہ عبوری حکومت کے لیے سابق وزیر داخلہ احمد علی جلالی کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔

افغانستان کی قومی مصالحتی کمیشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ویڈیو پیغام میں صدر اشرف غنی کے ملک چھوڑ کر جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ “اللہ ان سے حساب لے گا۔”

ادھر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم نے اپنے جنگجوؤں کو کابل میں داخل ہونے کی اجازت دیدی ہے، کیونکہ افغان فوج اور پولیس کئی مقامات سے چلے گئے ہیں اور دارالحکومت میں لوٹ مار کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، اس لیے طالبان جنگجو کابل کی سکیورٹی سنبھال لیں گے۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع نے کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی طالبان کے ساتھ مذاکرات اور تنازع کے سیاسی حل کے لیے تمام اختیارات سیاسی قیادت کو سونپ کر گئے ہیں۔