کور کمانڈر کانفرنس : افغان امن عمل کیلئے مثبت کردار ادا کرنے پر زور

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان امن عمل کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان پر ناکامیوں کا الزام عائد کرنے کے بجائے امن عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

کور کمانڈرز کمانفرنس کے اختتام پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ‘اجتماعی ذمہ داری کے طور پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو افغانستان میں پائیدار امن کے لیے اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کرنا چاہیے کیونکہ افغانستان میں پائیدار امن خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے’۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ مذموم عزائم رکھنے والوں کا مقابلہ کرنے کے لیے غلط فہمیوں اور قربانی کا بکرا بنانے سے گریز کرنا چاہیے’۔

کور کمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈکوارٹرز میں ماہانہ ہوتی ہے جو عموماً ایک روزہ سرگرمی ہوتی ہے جس میں بری فوج کی اعلیٰ قیادت پیشہ ورانہ امور کے علاوہ ملک کی داخلی و خارجی صورتحال کا جائزہ لیتی ہے۔

تاہم اس بار کانفرنس دو روز تک جاری رہی جو غیر معمولی ہے، جبکہ اس میں افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے پاکستان کی داخلی سلامتی پر ممکنہ اثرات پر گفتگو غالب رہی۔

شرکا کو ابھرتی ہوئی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا خوف ہے کہ افغانستان میں بدامنی کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے اور مہاجرین بھی پاکستان آسکتے ہیں کیونکہ پاکستان پہلے ہی 30 لاکھ افغانیوں کی میزبانی کر رہا ہے جبکہ دیگر 7 لاکھ مہاجرین کی آمد کی امید ہے۔

آرمی چیف کا حالیہ بیان افغانستان میں حالیہ دنوں طالبان کی تیزی سے پیش قدمی کے بعد پاکستان پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا گزشتہ جمعہ کو ہنگامی اجلاس نہ صرف پاکستان کے غیر دوستانہ رہا بلکہ پینٹاگون ترجمان کے اس حالیہ بیان میں بھی پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں نہیں دیکھا گیا.

ان کا کہنا تھا کہ امریکا، افغانستان کے سرحد پر دہشت گردوں کے مبینہ محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ بات کر رہا ہے، اس بیان سے بھی پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت ملی ہے۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ‘ہم نے انتہائی خلوص کے ساتھ افغان امن عمل میں سہولت کاری کی ہر ممکن کوشش کی ہے تاکہ اس کے نتیجے میں مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیہ ممکن ہو اور پاکستان یہ کوشش کرتا رہے گا’۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف نے جامع بارڈر منیجمنٹ کے حصے کے طور پر مؤثر بارڈر کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ‘سخت اقدامات’ پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے افسران کو مغربی سرحد پر انتہائی چوکنا رہنے کی ہدایت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘آرمی چیف نے آپریشنل تیاریوں کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے پر فارمیشنز کی کارکردگی کو سراہا اور کورونا وائرس، مون سون سیزن اور قومی پولیو مہم کے دوران سول انتظامیہ کی بھرپور مدد پر ان کی تعریف کی’۔