افغان جنگ میں پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جارہی ہے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان امن عمل کیلئے سہولت کاری کا کردار ادا کررہا ہے، افسوس ہے پاکستان کوقربانی کا بکرابنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں جاری پر تشدد کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے.

انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتاہے کہ مسئلے کاحل افغان فریقوں پر مشتمل مذاکرات میں ہے، پڑوسی ملک میں عدم استحکام سے پاکستان کو شدید نقصان لاحق ہوگا۔

شاہ محمودقریشی نے بتایاکہ چھ اگست کو افغانستان سے متعلق سیکیورٹی کونسل میں بریفنگ ہوئی، افغانستان سے متعلق بریفنگ پر بھارت سے بطور سیکیورٹی کونسل صدر رابطہ کیا تھا، بھارت نے مثبت ردعمل نہیں دیا،ہماری درخواست کو قبول نہیں کیا گیا، بھارت کو سلامتی کونسل کے صدرکی حیثیت سےایسارویہ زیب نہیں دیتا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان صورت حال پ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جارہی ہے،بد قسمتی سے دوسروں کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالا جارہاہے، ہم بارہا کہہ چکے کہ افغانستان میں ہماراکوئی پسندیدہ فریق نہیں، پاکستان سمجھتا ہے کہ الزام تراشی کے بجائے پائیدار امن کیلئے آگے بڑھا جائے۔

میڈیا سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں کو ہی کرنا ہے، ہم نے اسلام آباد میں افغان رہنماؤں کو مائنس طالبان کانفرنس کی دعوت دی، اس کانفرنس کو افغان صدر اشرف غنی کی درخواست پر ملتوی کیا گیا.

انہوں نے کہا کہ میں نے تحریری طور پر افغان وزیر خارجہ کو اسلام آباد کے دورے کی دعوت دی تاکہ ہم اگر کوئی مسائل ہیں تو ان پر بات کر سکیں، دوسروں کی ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر نہ ڈالی جائے،ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے پائیدار امن کے لیے آگے بڑھا جائے۔