‘افغان حکام عالمی برادری کو گمراہ کر رہے ہیں’

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کے گمراہ کن پراپیگنڈے اور جھوٹے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ افغان حکام پاکستان کے حوالے سے عالمی برادری کو گمراہ کر رہے ہیں۔

دفتر خارجہ نے افغانستان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والی بحث کا بغور مشاہدہ کیا ہے، افغانستان کے قریب ترین ہمسائے کے طور پر پاکستان کو اس بحث میں مدعو ہونے سے روکنا افسوس ناک ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کرچکی ہے، صدر سلامتی کونسل نے اجلاس میں پاکستان کو اپنا نکتہ نظر اور تجاویز پیش کرنے سے روکا، سلامتی کونسل کا پلیٹ فارم پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال ہونے دیا گیا،

اجلاس میں افغانستان کے نمائندے کے گمراہ کن پراپیگنڈے اور بےبنیاد الزامات سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کے ارکان کو اس معاملے پر اپنے نکتہ نظر اور موقف سے آگاہ کیا ہے، پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لیے اپنا موقف عالمی برادری کے سامنے بڑی صراحت کے ساتھ بارہا پیش کرچکا ہے، ہم اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ افغانستان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیہ ہی پائیدار امن وسلامتی کے لیے آگے بڑھنے کی واحد راہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ہمیں بین الافغان مذاکرات کے ٹھوس نتیجے پر پہنچنے سے قبل اور امریکی و نیٹو افواج کے انخلاء کی تکمیل کے قریب افغانستان میں بڑھتے تشدد پر شدید تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات پر پاکستان کو شدید تشویش لاحق ہے، تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ انسانی وعالمی قوانین کے احترام کو یقینی بنائیں، ہم تمام افغان فریقین پر زور دیتے ہیں کہ فوجی طرز عمل سے اجتناب کریں اور زوردیتے ہیں کہ افغان متحارب فریقین اجتماعیت کے حامل، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیہ کے لیے کام کریں۔