قومی سلامتی کا اجلاس : افغانستان کی صورتحال، اندرونی چینلجز پر بریفنگ اور فیصلے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں پارلیمانی رہنماوں کو مسئلہ کشمیر، افغانستان کی صورت حال، ملک کو درپیش اندرونی چیلنجز سمیت دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی۔

پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد سے جاری اعلامیے کے مطابق پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کی جانب سے ملک کی سیاسی و پارلیمانی قیادت، رہنماﺅں اور اراکین کو اہم خارجہ امور، داخلی سلامتی، اندرونی چیلنجز، خطے میں وقوع پذیر تبدیلیوں خصوصاً تنازع کشمیر اور افغانستان کی صورت حال پر جامع بریفنگ دی گئی۔

شرکاکو بتایا گیا کہ پاکستان نے افغان امن عمل میں اخلاص کے ساتھ نہایت مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، پاکستان کی بھرپور کاوشوں کی بدولت نہ صرف مختلف افغان دھڑوں اور متحارب گروپوں کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی بلکہ امریکا اور طالبان کے درمیان بھی بامعنی گفت و شنید کا آغاز ہوا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ہم اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام دراصل جنوبی ایشیا میں استحکام کا باعث بنے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا جائے گا اور افغان امن کے لیے اپنا ذمہ دارانہ کردار جاری رکھے گا۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کی سر زمین افغانستان میں جاری تنازع میں استعمال نہیں ہو رہی اور اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی جبکہ افغانستان کی سرحد پر باڑ کا کام 90 فیصد مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ کسٹمز اور بارڈر کنٹرول کا بھی موثر نظام تشکیل کیا جا رہا ہے۔

اعلامیے کے مطابق سیاسی و پارلیمانی قیادت نے ڈی جی آئی ایس آئی کی بریفنگ پر اطمینان اور افغانستان میں امن، ترقی اور خوش حالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے اجلاس نہ صرف اہم قومی امور پر قومی اتفاق رائے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ مختلف قومی موضوعات پر ہم آہنگی کو تقویت دینے کا بھی باعث بنتے ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ بریفنگ میں سوال و جواب کے سیشن میں اراکین اپنی سفارشات پیش کیں اور ان سفارشات کو سیکورٹی پالیسی کا اہم حصہ گردانا جائے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وزیر ریلوے اعظم خان سواتی، وزیر ہاوسنگ اینڈ ورکس چوہدری طارق بشیر چیمہ، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر اسد محمود، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، رکن قومی اسمبلی خالد حسین مگسی، بی این پی کے سربراہ اختر مینگل، غوث بخش خان مہر، عامر حیدر اعظم خان، نوابزادہ شاہ زین بگٹی، اراکین سینیٹ شیری رحمٰن، اعظم نذیر تارڑ، انوار الحق کاکڑ، مولانا عبدالغفور حیدری، فیصل سبزواری، محمد طاہر بزنجو، ہدایت اللہ خان، محمد شفیق ترین، کامل علی آغا، مشتاق احمد، مظفر حسین شاہ، محمد قاسم اور دلاور خان شریک ہوئے۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری، وزیر دفاع پرویز خٹک، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اسد عمر، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ملک محمد عامر ڈوگر، اراکین قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی، خواجہ محمد آصف، رانا تنویر حسین، احسن اقبال، راجا پرویز اشرف اور حنا ربانی کھر کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی گئی تھی۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہیں اور عسکری قیادت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل جنرل فیض حمید، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار سمیت قومی سلامتی کے دیگر اداروں کے سربراہان بھی اجلاس میں خصوصی طور پر شریک ہوئے۔

سیکیورٹی خدشات کے باعث بین الصوبائی بارڈر کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ

افغانستان میں جنگ جیسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کی سول اور عسکری قیادت نے پنجاب اور بلوچستان کی تین سرحدوں پر بارڈر سیکیورٹی خدشات کے باعث بین الصوبائی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں پسماندہ علاقوں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کو بالخصوص انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ، پانی، صحت اور تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے پنجاب کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے منصوبے کی اصولی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں سندھ میں امن کا قیام یقینی بنانے اور وہاں کے عوام کو ڈاکوؤں کی حکمرانی سے آزاد کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں ملک میں امن و امان کی صورتحال اور 2014 کے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا، یہ پلان ملک بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مرتب کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت اس اجلاس میں وفاقی وزرا شیخ رشید، فواد چوہدری، ڈاکٹر فروغ نسیم، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، ڈی جی ایم او میجر جنرل نعمان ذکریا، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار اور سینئر سول و فوجی افسران نے شرکت کی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بدھ کو کہا تھا کہ افغانستان میں بدامنی کے باعث ملک کی سرحدی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور بھارت اس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

ملک میں بالخصوص پنجاب اور بلوچستان کے تین سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بین الاصوبائی بارڈر کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ سروے آف پاکستان 2021 کو استعمال کرتے ہوئے بارڈر مسائل کو حل کیا جاسکے۔

ان علاقوں میں سلامتی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سول اور پولیس انتظامیہ کو مزید مضبوط بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس نے اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور پلان کو مزید مؤثر اور موجودہ وقت کی ضروریات بالخصوص جاسوسی، تخریب کاری اور سائبر کرائم سے متعلق چیلنج کو پورا کرنے کے لیے اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیر اعظم نے پولیس اور مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہا۔