شمالی وزیرستان کے کھلاڑی کی پاکستان کرکٹ ٹیم میں دھواں دار انٹری

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں کھیلوں کے میدان اور کھیلوں کی سرگرمیاں محدود لیکن محدود وسایل کے باوجود شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد وسیم نے قومی کرکٹ ٹیم میں اپنا نام بنا لیا.

محمد وسیم کرکٹ کی دنیا میں اپنی بہترین باؤلنگ سے نہ صرف اپنا نام بلکہ اپنے خطے کی ساتھ ساتھ پاکستان کا نام بھی روشن کر رہے ہیں۔

پاکستان کے انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم میں شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پہلے انٹرنیشنل کرکٹر ہے جس نے ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹی ٹوئنٹی میں ڈیبیو کا موقع ملا.

محمد وسیم کو بولنگ کوچ وقار یونس نے انٹرنیشنل کیپ پہنائی جس پر پیسر مختصر فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 94ویں اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پہلے انٹرنیشنل کرکٹر بنے ہیں۔

شمالی وزیرستان کا علاقہ پچھلی دو دہائیوں سے کافی خبروں میں رہا ہے لیکن ان میں سے بیشتر خبریں علاقے کے برے حالات اور وہاں امن و امان کی بگڑتی صورت حال کے حوالے سے ہی رہی ہیں۔

ایسے حالات میں ایک بچے کا کرکٹ کی طرف مائل ہونا اور پھر اس لگن سے اس شوق کو پالنا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنے والے پہلا وزیرستانی کرکٹر بن جانا کسی موٹیویشنل کہانی سے کم نہیں۔

محمد وسیم نے جب شمالی وزیرستان میں کرکٹ کھیلنا شروع کی تو وہاں حالات بہت خراب تھے لیکن ان حالات میں بھی انھوں نے اپنا شوق جاری رکھا۔ یہی شوق انھیں پاکستان انڈر 19 ٹیم سمیت پاکستان سپر لیگ سے ہوتا ہوا انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم میں پاکستان کی نمائندگی تک آگیا.

19 سالہ محمد وسیم نے ٹرائبل پریس سے شمالی وزیرستان کے حالات کے بارے میں بتایا کہ وہاں پر پہلے حالت بہت خراب تھے جس کی وجہ سے میں نے بہت مشکل سے کرکٹ کھلتے ہوے گزارا ہیں.

انہوں نے کہا کہ ’میری پیدائش شمالی وزیرستان کی ہے اور وہیں میں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی لیکن وہاں جس طرح کے حالات تھے ان میں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک جانا بھی بہت مشکل تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ایسے میں کرکٹ کھیلنا آسان نہ تھا لیکن میں کسی طور بھی اپنے شوق سے دور ہونا نہیں چاہتا تھا لہٰذا جہاں بھی موقع ملتا میں ٹیپ بال کے میچوں میں حصہ لیتا تھا۔

محمد وسیم کا کہنا ہے کہ ان کے آبائی علاقے ، وزیرستان میں کھیل کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور شروع میں تو انکے والد بھی ان کے کرکٹ کھیلنے پر خوش نہیں تھے پھر چچا کی رہنمائی اور قریبی دوستوں کے تعاون نے انہیں آگے بڑھنے میں مدد بہت کی۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایونٹ میں شرکت ایک یادگار تجربہ تھا، وہ ٹورنامنٹ میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی نمائندگی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

محمد وسیم نے 26 نومبر 2020 کو اس وقت ایک قدم آگے بڑھے جب انہوں نے اپنا فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا۔

کراچی میں ناردرن کے خلاف خیبرپختونخوا کے لیے کھیلتے ہوئے قائد اعظم ٹرافی کے میچ میں پہلی اننگز میں 8.4 اوورز میں 45 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی جبکہ دوسری اننگز میں 7.1 اوورز میں 33 رنز دے کر ایک وکٹ اپنے نام کی۔

10 جنوری 2021 کو لاہور میں منعقدہ پی ایس ایل ڈرافٹ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے محمد وسیم کو ایمرجنگ کیٹیگری میں پِک کیا اور اس کے آٹھ روز بعد انہوں نے اپنا لسٹ اے ڈیبیو کیا۔

یاد رہے کہ نوجوان آل راؤنڈر جنوبی افریقا میں کھیلے گئے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020ء میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔

گزشتہ سال کھیلے گئے اس ایونٹ میں محمد وسیم جونیئر نے سکاٹ لینڈ کیخلاف بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے پانچ شکارکیے تھے پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ 2020ء کے سیمی فائنل میں بھارت سے شکست پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی کا کہنا تھا کہ اس میچ میں ناکامی نے سب کو افسردہ کر دیا تھا مگر اب وقت آگے بڑھ چکا ہے۔

یاد رہے کہ 12 مارچ 2021 کو پریس کانفرنس کرتے ہوئی قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سیلیکٹر محمد وسیم نے جب دورہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے لیے ٹیم کا اعلان کیا تو شمالی وزیرستان کے محمد وسیم جونیئر کا نام بھی ایک روزہ اور ٹی 20 انٹرنیشنل کے دستوں میں شامل تھا۔

محمد وسیم کو افریقن سفاری میں کھیلنے کا موقع تو نہیں ملا لیکن قومی ستاروں کے ساتھ اور ڈریسنگ روم شیئر کرنے اور قومی بولنگ کوچ وقار یونس کی نگرانی میں اپنے ہنر کو نکھارنے کا موقع ملا۔

چار جون 2021 کو ایک مرتبہ پھر انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کے ٹی 20 سکواڈ میں ان کو شامل کیا گیا۔