اولمپکس : راج مستری کے بیٹے ارشد ندیم پاکستان کیلئے میڈل کی آخری امید

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

. ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی اُمید جاگ اٹھی

میاں چنوں کے راج مستری کے بیٹے ایتھلیٹ ارشد ندیم نیزہ بازی کے فائنل مقابلے میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، سنسنی خیز فائنل سات اگست کو ہوگا۔

ارشد ندیم کو گروپ بی میں رکھا گیا تھا جس میں ایتھلیٹ کو کم سے کم 83.5 میٹر جیولن تھرو کرنا ہوتا ہے۔ ایسا صرف چھ ایتھلیٹس ہی کر پائے جن میں ارشد ندیم بھی شامل تھے۔

ارشد ندیم جو کبھی کرکٹر بننا چاہتے تھے انہوں نے اولمپکس سے پہلے کہا تھا کہ وہ اولمپکس میں 90 میٹر تھرو کرنے کے لیے پرامید ہیں۔

خیال رہے کہ جیولن تھرو کے اولمپکس مقابلوں میں ناروے انڈریاس تھورکلڈسن نے90.57 میٹر تھرو کر کے عالمی ریکارڈ بنایا تھا۔

اولمپکس ایتھلیٹکس مقابلوں کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم اپنی شاندار کارکردگی کے بعد ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔

جیولین تھرو کے مقابلوں میں شاندار کارکردگی دکھانے پر مداحوں سمیت معروف شخصیات بھی ارشد ندیم کی معترف ہیں۔

پاکستانی گلوکار علی ظفر نے ارشد ندیم کیلئے تعریفی پوسٹ شیئر کی اور کھلاڑی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

حکومتِ پاکستان نے بھی اپنے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ارشد ندیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ارشد ندیم نے جیولین تھرور کے طور پر 85.16m کی تھرو کرکے تاریخ رقم کی اور ٹوکیو اولمپکس کے جیولین تھرو فائنل میں جگہ بنائی۔

ٹوئٹر صارف صہیب حسن نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہترین تھرو 85.16M تھی، 86.29M میٹر ارشد کی ذاتی بہترین تھرو ہے لیکن یہ بات اچھی ہے کہ انہوں نے اگلے راؤنڈ کیلئے کوالیفائی کرلیا۔

خیال رہے کہ ایونٹ میں ارشد ندیم نے پہلی باری میں 78.5 کی تھرو کی تھی لیکن دوسری مرتبہ انہوں نے 85.16 کی تھرو کرکے فائنل کیلئے براہ راست کوالیفائی کرلیا۔

واضح رہے کہ ارشد کے مرکزی حریف بھارت کے نیرج چوپڑا اور جرمنی کے جوہانس ویٹر ہوں گے۔