زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

جنوبی وزیرستان میں کھیلوں کے حوالے سے جو ٹیلنٹ پایا جاتا ہے وہ شاید پاکستان کےکسی اور علاقے میں نہیں ۔ 2004 سے حالات خراب ہونے کی وجہ سے جنوبی وزیرستان سے لوگوں نے ہجرت شروع کر دیا تھا لیکن وہی ابادی طالبانوں کی حکومت میں بھی وہی پر رہی جن کا بلکل کوئی زریعہ نہیں تھا۔

2009 میں اپریشن راہ نجات کے بعد وہ بھی نکل گئے وہاں پر اپنے گھر بار اور جائیدادیں چھوڑ کر پاکستان کے مختلف علاقوں کا روخ کیا اور وہاں پر ایک نئے سیرے سے زندگی شروع کی . جیسے کے ہم سب کو پتہ ہے کہ جنوبی وزیر ستان میں اپنا گھر نہ بجلی کا بل نہ گیس کا خرچہ زمنیں اور باغات اپنی نہ اناج کا خرچہ اور نہ سبزی کا لیکن جب شہروں میں ہجرت کی تو ان سب خرچوں کا سامنا کرنا پڑا.

ان سب کٹھن وقت کے باوجود بھی نوجوانوں نے کھیلوں کا روخ کیا اور متاثرین کی زندگی بسنے کے باوجود اج بین الااقوامی سطح پر اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہے۔ پاکستان میں ایک ایسے کھیل میں جان ڈال دی جو اخری سانسوں میں تھی جس کا نام (کراٹے) ہے کراٹے کا کھیلوں کی ماں ہونے سے مشہور ہے اگر جس بندے کو کراٹے میں عبور ہے وہ تقریبا ہر کھیل با اسانی سیکھ سکتا ہے.

کراٹے وہی بندہ کر سکتا ہے جس کی ہیلتھ اچھی ہو اور کھیلوں کا درومدار اچھی صحت پر ہے اس طرح جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی اسعداللہ عرف سیدل جس نے نو سال کی عمر میں (کیوکیشن ) کراٹے سے اپنے کھیل کا اغاز کیا. جو کہ تین سالوں کے بعد ایک استاد سے ملاقات ہوئی جس کانام باکر چنگیزی تھا.

پھر اس کے ساتھ مسلسل 18 سال اپنے کھیل کو جاری رکھا مزدوری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی غربت کو لے کہ اپنے شوق کو بھی جاری رکھا جوکہ بعد میں دوبئی گیا پھر وہاں سے میکسکو گیا جہاں پر ماسٹر (ایلن) سے ایک سال جوڈو کراٹے کی ٹرینگ کی ایک طرف اپنے گھر کا بوجھ دوسری طرف اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں.

اس کے بعد جاپان گیا وہاں پر ماسٹر (سرسو )سے کیک باکسنگ کی ٹرینگ کی اس طرح مختلف چھوٹے بڑے ممالک میں گیا اور کراٹے کےمختلف سٹائل کےکھیل کھیلے.

اس طرح 26 ممالک کے دورے کئے جس میں سپین ۔پرتگال ۔افریقہ ۔موزمبک شامل ہے لیکن اس کے باوجود بھی اپنے ملک کوئی ایسا موقع نہیں دیا گیا جس سے اپنے وطن کے بچوں کو بھی اپنی صلاحیتیں شئیر کرتا اور اس کھیل میں اگے لاتے اپنی کھیل کے حوالے سے ابھی بھی پورے پاکستان میں ایسے کھلاڑی موجود نہیں.

جس کو اللہ پاک نے اپنی قدرتی صلاحیتوں سے نوازہ ہے لیکن اب بھی ہم اس کی ٹیلنٹ سے محروم ہے ۔۔۔ہم حکومت وقت اور وزیر کھیل سے اپیل کرتے ہے کہ اس کھلاڑی کو ضائع نہ کریں جنوبی وزیرستان کیلئے اس کو ایسے مواقع فراہم کریں تاکہ وہاں کے بچوں کو وہ اپنی صلاحیتوں سے روشناس کریں تاکہ وہ بچے اولمپک میں اپنے علاقے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا نام روشن کر سکے ۔