شمالی وزیرستان : آپریشن ضرب عضب میں بند ہونے والا ہسپتال دوبار کھول دیا گیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

شمالی وزیرستان تحصیل میرعلی گلشن اڈہ حسوخیل میں واقع حسوخیل سول ہسپتال ایک بار پھر مریضوں کے علاج کے لئے کھول دیا گیا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق سول ہسپتال کا افتتاح 1964 میں کیا گیا تھا لیکن آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے مکمل طور مسمار ہوچکا تھا ۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہسپتال بند ہونے کی صورت میں گاؤں حسو خیل، ملاگان ، عمرکی کلہ، بڑوخیل، خوشحالی اور حیدر خیل کے لوگ اپنے مریضوں کو تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال میرعلی ، ضلعی ہیڈ کواٹر ہسپتال میرانشاہ یا ملحقہ ضلع بنوں کے ہسپتال میں لے جانے پر مجبور ہوئے تھے تاہم اب 50 ہزار کے قریب لوگ یہاں علاج کرانے آتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ضرب عضب آپریشن کے بعد سال 2017 کو جب مقامی لوگوں کی اپنے آبائی علاقوں میں واپسی ہوئی تو اس وقت سول ہسپتال حسوخیل کی نان فکنشنل ہونے کی وجہ سے عوام کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑا.

انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن کے دو سال کے بعد 2019 میں حکومت نے مذکورہ ہسپتال کی تعمیر نو اور بحالی کے لئے فنڈز جاری کئے جس کے تحت ہسپتال پر کام شروع ہوا اور کام مکمل ہونے کے بعد لوگوں کے لئے کھول دیا گیا۔

ٹرائبل پریس سے بات کرتے ہوئے ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر فلک نیاز نے بتایا کہ موجودہ وقت میں ہسپتال میں دو ڈاکٹرز، ایک ایم ایس اور دس پرامیڈکس سٹاف اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ ہسپتال میں میڈیکل سٹور، ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ساتھ ساتھ ملیریا سسٹم اور ڈینٹل سسٹم بھی موجود اور فعال ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں اب بھی لیڈی ڈاکٹر سٹاف، ایکسرے سسٹم، باہر سے آئے ہوئے سٹاف کی رہائش کے لئے کواٹر، ایمرجنسی وارڈ، نکاس اب سسٹم اور دیگر سہولیات کی فقدا ن ہیں جبکہ اس حوالے سے انہوں نے ڈی ایچ او شمالی وزیرستان کو آگاہ کیا اور ڈی ایچ او نے مذکورہ ضروریات کو فراہم کرنے کی یقین دہانی کی۔

دوسری جانب اہل علاقہ نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حسوخیل سول ہسپتال میں ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ لیڈی ڈاکٹرز اور دیگر سہولیات مہیا کیا جائے تاکہ علاقے کے لوگ گھر کی دہلیز پر باآسانی اپنا علاج کراسکیں۔