لیویز و خاصہ دار فورس ایکٹ منظور، خاصہ داروں کا احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا اسمبلی نے خیبرپختونخوا کوڈ آف سول پروسیجر ترمیمی بل اور خاصہ دار و لیویز فورس بل سمیت تین بل منظور کرلئے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر مشتاق غنی کی زیر صدارت ہوا جس میں محولہ بالا بلوں کی منظوری دی گئی تاہم اجلاس کے دوران قبائلی اضلاع کیلئے پولیس فورس سے متعلق قانون سازی پر اپوزیشن اراکین نے شورشرابا کیا، سپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہوکر احتجاج کیا اور ارکین نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ بلوں سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

دوسری جانب قبائلی اضلاع میں ڈیوٹیاں سرانجام دینے والی خاصہ دار فورس کے اہلکاروں نے باغ ناران میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی سے منظور کردہ خاصہ دار فورس ایکٹ کو مسترد کردیا۔

آل فاٹا خاصہ دار فورس ایکشن کمیٹی کے ترجمان ڈی ایس پی جہانگیر آفریدی کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے خاصہ دار فورس ایک سال قبل پولیس میں ضم ہوچکے ہیں، خاصہ دار فورس پر پولیس ایکٹ 2017 نافذ کیا جائے، نیا ایکٹ قبائلی اضلاع کے سابق خاصہ دار فورس کو قبول نہیں۔

جہانگیر آفریدی کے مطابق نئے ایکٹ سے مسائل سلجھنے کی بجائے الجھ جائیں گے، حقوق کے لئے جدوجہد جاری رہے گی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ کے پی اسمبلی سے منظور ہونے والا خاصہ دار و لیویز ایکٹ بل کسی صورت منظور نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے لیویز اور خاصہ دار کو پولیس میں ضم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیویز اور خاصہ دار فورس ایکٹ کی منظوری کا مطلب ہمیں پولیس میں ضم نہیں کیا جارہا، پولیس میں براہ راست انضمام کے علاوہ ہمیں کوئی ایکٹ منظور نہیں ہے، 14 ستمبر سے باجوڑ سے باقاعدہ تحریک اور احتجاج کا سلسلہ شروع کریں گے۔

خاصہ داروں نے مطالبہ کیا کہ خاصہ دار فورس پرپولیس ایکٹ 2017 نافذ کیا جائے اور دھمکی دی کہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو صوبائی اسمبلی کے سامنے بھی احتجاج کیا جائے گا۔