پاکستان میں لاک ڈاؤن کے متعلق بڑا فیصلہ آگیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح بڑھنے کے پیش نظر ملک کے اہم شہروں میں 31 اگست تک نئی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے پابندیوں کی منظوری کے بعد اسد عمر نے اہم شہروں میں نئی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ان بندشوں کے ہمارے کمزور اور غریب طبقے پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسی لیے کچھ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے تین مرحلوں میں لاک ڈاؤن کیوں کرتے ہیں اور پہلی دفعہ میں ہی مکمل لاک ڈاؤن کیوں نہیں کرتے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے ایک بہت بڑے دیہاڑی دار طبقے کے روزگار کا تحفظ بھی کرنا ہے، اس لیے ہم بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے ابتدائی تین لہروں میں جس حکمت عملی پر عمل کرکے کامیابی سے دفاع کیا ہے تو اسی کو دیکھتے ہوئے ہم نے کچھ فیصلے کیے ہیں اور اگر آپ وبا کے پھیلاؤ کو دیکھیں تو پچھلے ایک ہفتے میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا ہوا نظر آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مثبت کیسز کی تعداد اور شرح میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، لہٰذا ان نئی پابندیوں کو نافذ کیا جا رہا ہے.

اسد عمر نے کہا کہ جن شہروں میں پابندیوں کا اطلاق ہوگا، ان میں صوبہ پنجاب میں راولپنڈی، لاہور اور فیصل آباد شامل ہیں، خیبر پختونخوا میں پشاور اور ایبٹ آباد، صوبہ سندھ میں کراچی اور حیدرآباد میں 8 تاریخ تک پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مثبت کیسز کی شرح برقرار رہتی ہے تو کراچی اور حیدرآباد میں 8 تاریخ کے بعد بھی یہ پابندیاں لاگو رہیں گی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں میرپور اور گلگت بلتستان میں گلگت اور اسکردو میں بھی ان پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کا آغاز 3 اگست سے ہوگا اور یہ 31 اگست تک نافذ رہیں گی جبکہ ہفتے میں ایک دن کے بجائے اب دو دن چھٹی ہوگی جنہیں “سیف ڈیز” کا نام دیا گیا ہے، البتہ اس بات کا اختیار صوبے کو ہوگا کہ وہ کن دو دنوں میں چھٹی کریں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مارکیٹ کے اوقات کار رات 10 بجے سے کم کرکے 8 بجے تک کر دیئے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ویکسینیشن کرانے والے افراد کو ان ڈور ڈائننگ کی اجازت دی تھی، لیکن بدقسمتی سے اس کا اطلاق بالکل بھی نہیں ہو رہا اور اس پر عملدرآمد میں کمزوریاں سامنے آئی ہیں، جبکہ انتظامیہ بھی یہ کہہ رہی تھی کہ ہر ریسٹورنٹ میں جا کر دیکھنا ممکن نہیں کہ صرف ویکسینیشن والوں کو آنے دیا جا رہا ہے یا نہیں، اس لیے ان ڈور ڈائننگ کو بند کیا جا رہا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ باہر بیٹھ کر کھانا کھایا جا سکتا ہے، لیکن اس کا وقت بھی 12 بجے سے کم کرکے 10 بجے تک کیا جا رہا ہے جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی 24 گھنٹے اجازت ہے۔

انہوں نے کہا کہ شادیوں پر بھی یہی قانون لاگو کیا گیا تھا کہ اگر آپ کی ویکسینیشن ہوچکی ہے تو آپ شادی میں جا سکتے ہیں، لیکن اس پابندی پر بھی اطلاق نہیں کیا گیا، لہٰذا 400 لوگوں سے زائد افراد کو شادی میں بلانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ اجتماعات پر بھی اسی کا اطلاق ہوگا۔

دفاتر پر پابندیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ پہلے یہ کہا گیا کہ 50 فیصد افراد کو آنے کی اجازت ہوگی اور بقیہ عملہ گھر سے کام کر لے گا، اب کیسز میں اضافے کو دیکھتے ہوئے وہی پالیسی دوبارہ سے لاگو کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ 70 فیصد گنجائش کے ساتھ چلانے کی اجازت میں کمی کرتے ہوئے اسے 50 فیصد کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر میں تیزی آگئی ہے اور یکم اگست کو اپریل کے بعد پہلی بار ملک میں 5 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح بڑھنے کے پیش نظر ملک کے اہم شہروں میں 31 اگست تک نئی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے پابندیوں کی منظوری کے بعد اسد عمر نے اہم شہروں میں نئی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ان بندشوں کے ہمارے کمزور اور غریب طبقے پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسی لیے کچھ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے تین مرحلوں میں لاک ڈاؤن کیوں کرتے ہیں اور پہلی دفعہ میں ہی مکمل لاک ڈاؤن کیوں نہیں کرتے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے ایک بہت بڑے دیہاڑی دار طبقے کے روزگار کا تحفظ بھی کرنا ہے، اس لیے ہم بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے ابتدائی تین لہروں میں جس حکمت عملی پر عمل کرکے کامیابی سے دفاع کیا ہے تو اسی کو دیکھتے ہوئے ہم نے کچھ فیصلے کیے ہیں اور اگر آپ وبا کے پھیلاؤ کو دیکھیں تو پچھلے ایک ہفتے میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا ہوا نظر آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مثبت کیسز کی تعداد اور شرح میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، لہٰذا ان نئی پابندیوں کو نافذ کیا جا رہا ہے.

اسد عمر نے کہا کہ جن شہروں میں پابندیوں کا اطلاق ہوگا، ان میں صوبہ پنجاب میں راولپنڈی، لاہور اور فیصل آباد شامل ہیں، خیبر پختونخوا میں پشاور اور ایبٹ آباد، صوبہ سندھ میں کراچی اور حیدرآباد میں 8 تاریخ تک پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مثبت کیسز کی شرح برقرار رہتی ہے تو کراچی اور حیدرآباد میں 8 تاریخ کے بعد بھی یہ پابندیاں لاگو رہیں گی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں میرپور اور گلگت بلتستان میں گلگت اور اسکردو میں بھی ان پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کا آغاز 3 اگست سے ہوگا اور یہ 31 اگست تک نافذ رہیں گی جبکہ ہفتے میں ایک دن کے بجائے اب دو دن چھٹی ہوگی جنہیں “سیف ڈیز” کا نام دیا گیا ہے، البتہ اس بات کا اختیار صوبے کو ہوگا کہ وہ کن دو دنوں میں چھٹی کریں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مارکیٹ کے اوقات کار رات 10 بجے سے کم کرکے 8 بجے تک کر دیئے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ویکسینیشن کرانے والے افراد کو ان ڈور ڈائننگ کی اجازت دی تھی، لیکن بدقسمتی سے اس کا اطلاق بالکل بھی نہیں ہو رہا اور اس پر عملدرآمد میں کمزوریاں سامنے آئی ہیں، جبکہ انتظامیہ بھی یہ کہہ رہی تھی کہ ہر ریسٹورنٹ میں جا کر دیکھنا ممکن نہیں کہ صرف ویکسینیشن والوں کو آنے دیا جا رہا ہے یا نہیں، اس لیے ان ڈور ڈائننگ کو بند کیا جا رہا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ باہر بیٹھ کر کھانا کھایا جا سکتا ہے، لیکن اس کا وقت بھی 12 بجے سے کم کرکے 10 بجے تک کیا جا رہا ہے جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی 24 گھنٹے اجازت ہے۔

انہوں نے کہا کہ شادیوں پر بھی یہی قانون لاگو کیا گیا تھا کہ اگر آپ کی ویکسینیشن ہوچکی ہے تو آپ شادی میں جا سکتے ہیں، لیکن اس پابندی پر بھی اطلاق نہیں کیا گیا، لہٰذا 400 لوگوں سے زائد افراد کو شادی میں بلانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ اجتماعات پر بھی اسی کا اطلاق ہوگا۔

دفاتر پر پابندیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ پہلے یہ کہا گیا کہ 50 فیصد افراد کو آنے کی اجازت ہوگی اور بقیہ عملہ گھر سے کام کر لے گا، اب کیسز میں اضافے کو دیکھتے ہوئے وہی پالیسی دوبارہ سے لاگو کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ 70 فیصد گنجائش کے ساتھ چلانے کی اجازت میں کمی کرتے ہوئے اسے 50 فیصد کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر میں تیزی آگئی ہے اور یکم اگست کو اپریل کے بعد پہلی بار ملک میں 5 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔