افغانستان کی خانہ جنگی پاکستان میں بھی داخل ہوسکتی ہے، وزیراعظم

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کی خانہ جنگی پاکستان میں بھی داخل ہوسکتی ہے۔

امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں، افغان مہاجرین کے کیمپ ہیں، پاکستان پر افغانستان میں 10 ہزار جنگجو بھیجنے کا الزام احمقانہ ہے، پاکستان مزید افغان مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

افغانستان پہلے اپنے مہاجرین کو واپس لے پھر پاکستان سے جواب طلبی کرے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان خطے کے امن میں شراکت دار ہے، ہم مزید کسی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔

انہوں نے کہا ہے کہ امریکا کو اڈے دینے سے پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے گا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان سے متعلق پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ افغان جنگ سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں، پاکستان نے افغان جنگ کا حصہ بن کر 70 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے.

انہوں نے کہا کہ جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی تو ملک میں خودکش حملے ہو رہے تھے، ہم امریکا کی جنگ لڑ کر اپنی معیشت کا نقصان کر رہے ہیں، امریکی امداد ہمارے نقصان سے کہیں زیادہ کم ہے، افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا الزام بھی ہمیں دیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ طالبان امریکا اور افغان قیادت سے بات چیت کے لئے تیار تھے اشرف غنی سے نہیں، اسی وجہ سے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہوتے رہے، پاکستان نے امریکا اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کا اعتراف امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی کیا.

انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں افغانستان میں امریکا اور نیٹو فورسز کے پاس طالبان سے مذاکرات کی صلاحیت نہیں رہی کیونکہ اب طالبان خود کو فاتح سمجھ رہے ہیں۔ اس لئے انہیں سیاسی حل کے لیے مجبور کرنا مشکل ہے، طالبان کے ساتھ اس وقت مذاکرات کرنے چاہیے تھے جب افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ نیٹو فورسز تھیں۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ افغان جنگ سے پہلے القاعدہ افغانستان میں تھی، پاکستان میں کوئی عسکریت پسند طالبان نہیں تھے، افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی تو پاکستان میں بھی اس کے اثرات پڑیں گے، خانہ جنگی پاکستان میں داخل ہو سکتی ہے کیونکہ یہاں بھی کثیر تعداد میں پشتون ہیں، وہ اس خانہ جنگی کا شکار ہوسکتے ہیں اور ہم ایسا کبھی نہیں چاہیں گے۔

پاکستان میں 30 لاکھ افغان مہاجرین پہلے سے موجود ہیں، اس صورت حال کے بعد مزید لاکھوں آجائیں گے، پاکستان کی معیشت مزید مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔