قبائلی کھلاڑی جس نے کرایہ کیلئے موبائل فون بیچ کر گولڈ مڈل جیتا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

شاہ نواز آفریدی

قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سترہ سالہ جدران آفریدی اپنا سمارٹ فون موبائل بیچ کر 23ویں نیشنل ووشو کنگ فو چیمپیئن شپ میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی کرنے کوئٹہ پہنچ گیا اور ٹورنامنٹ میں گولڈ مڈل جیتنے والے پہلے قبائلی کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ اس حوالے سے خصوصی گفتگو میں جدران آفریدی نے کہا کہ سخت مالی مشکلات کی وجہ سے مجھے نیشنل گیمز کے مقابلوں میں جانے کیلئے اپنا ذاتی موبائل بیچنا پڑا اور دوستوں سے پیسے قرض لینا پڑے، اسی سے دوطرفہ گاڑی ٹکٹ سمیت وہاں مقابلوں کیلئے انٹری بھی اپنی جیب سے کرنا پڑی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مقابلوں میں شرکت کیلئے آنا جانا، مقابلے شروع ہونے سے پہلے اور مقابلے کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد تمام اخراجات بھی ذاتی طور سے کرنے ہوتے ہیں تاہم مقابلوں کے دوران رہائش اور دیگر اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے۔

ٹرائبل مارشل آرٹ اکیڈمی برقمبر خیل کے ڈائریکٹر و سینئر مارشل آرٹ کھلاڑی نور شاہ کے مطابق اسی اکیڈمی کے کھلاڑی جدران آفریدی نے پورے پاکستان کے لیول پر گولڈ مِڈل جیت لیا جس سے وہ قبائلی اضلاع کا پہلا کھلاڑی بنا جس نے خیبر پختونخواہ کی نمائندگی کرتے ہوئے مائنس 44 ویٹ کیٹگری میں پہلا انعام حاصل کر کے تمام قبائلیوں کا سر فخر سے بُلند کیا.

اگر جدران کو موقع دے کر نیشنل لیول پر اور انٹرنیشنل لیول پر چائنہ میں ٹریننگ دی جائے تو وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر کے نمایاں پوزیشن حاصل کر سکتا ہے اور اپنی صلاحیت پوری دُنیا میں منوا سکتا ہے.

ضلع خیبر تحصیل باڑہ میں مارشل آر ٹ سمیت دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں میں بہت ٹیلنٹ ہے مگر پسماندہ علاقہ ہونے کی وجہ سے سہولیات کی کمی ہے، یہاں پر اگر ان کھلاڑیوں کو موقع فراہم کیا جائے تو مختلف کھیلوں میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں 24 جون تا 28 جون منعقد ہونے والے مذکورہ مقابلوں میں ٹرائبل مارشل آرٹ اکیڈمی ضلع خیبر ہی کے کھلاڑی ابرار آفریدی نے 65 کلوگرام ویٹ کیٹگری میں سلور جبکہ عبدالصمد آفریدی نے ووشو ہی میں 70 کلوگرام کے ویٹ کیٹگری میں برونز مِڈل حاصل کیا،

”اس سے پہلے مختلف سطح کے مقابلوں میں بھی میں نے 8 مِڈلز حاصل کئے ہیں جن میں 5 گولڈ جبکہ 2 سلور اور ایک برونز شامل ہیں، ضلعی سطح پر انٹر کلب مقابلوں میں 4 عدد گولڈ مِڈلز، حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں انٹر ڈسٹرکٹ ووشو مقابلوں میں ایک گولڈ مِڈل جبکہ دو سلور اور ایک برونز بھی انٹرڈسٹرکٹ مقابلوں میں حاصل کئے۔”

جدران آفریدی نے کہا کہ ووشو کا ٹائٹل جیتنے کیلئے تین مقابلے کئے جن میں پہلا آزاد کشمیر کے زعفران نامی کھلاڑی، دوسرے نمبر پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد کا کھلاڑی تھا جس کو مقابلے میں ناک آؤٹ کیا جبکہ تیسرا اور فائنل مقابلہ بھی بلوچستان سے تھا جس کے ساتھ سات منٹ تک ٹوٹل مقابلہ تین راؤنڈز پر مشتمل تھا، پہلا اُس نے جیتا جبکہ دوسرا میں نے جیتا اور تیسرے اور آخری مقابلے میں وہ بھی ناک آؤٹ ہوا۔

خیبر پختونخواہ کی ووشو ایسوسی ایشن کے صدر رحمت گل آفریدی نے کہا کہ ہم نے جنوری میں چارسدہ سپورٹس کمپلیکس میں صوبائی سطح پر مختلف گیمز کے ٹرائلز کئے، جن میں تمام صوبے سے دس ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا.

ووشو کے لئے مجموعی طور پر 40 ٹیموں کے مقابلے ہوئے تاہم مائنس 44 کلوگرام ویٹ کیٹگری میں 14 ٹیموں نے حصہ لیا جن میں جدران آفریدی فاتح قرار پائے اور یوں اُن کو کوئٹہ میں 24 جون تا 28 جون سے 23ویں نیشنل ووشو کنگ فو چیمپیئن شپ کے مقابلوں کیلئے منتخب کر لیا گیا جہاں پر اُنہوں نے قومی سطح پر گولڈ مِڈل جیت کر نمایاں کاکردگی دکھائی۔

اُن کے مطابق خیبر پُختونخواہ میں پہلی بار صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ پر خطیر رقم خرچ کر رہی ہے جس سے نچلی سطح سے کھلاڑیوں کے آگے لانے میں مدد مل رہی ہے اور جدران آفریدی اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ قبائلی ضلع خیبر کے پسماندہ علاقے سے کھلاڑی منتخب ہوا اور قومی سطح پر مقابلوں کیلئے ملک کے دوسرے صوبے بھیج دیا گیا۔

انہوں نے اس کھیل کی تاریخ کے بارے میں بتاتے ہوئے بتایا کہ ووشو چائنہ کا قومی کھیل ہے اور پاکستان میں پہلی بار 1997 ء میں متعارف کیا گیا، ووشو کو باقاعدہ طور پر 1998ء میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جبکہ خیبر پختونخوا میں نیشنل گیمز میں باقاعدہ طور پر پہلی بار 2000ء میں شامل کیا گیا۔

ووشو ایسوسی ایشن خیبر پُختونخوا کے جنرل سیکرٹری نجم صافی کے مطابق کوئٹہ میں منعقدہ 23ویں نیشنل ووشو کنگ فو چمپیئن شپ کے مقابلوں میں آزاد جموں کشمیر، اسلام آباد، واپڈا، پاک آرمی، پاکستان ریلوئے، پولیس، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور گلگت بلتستان سمیت دیگر چاروں صوبوں کے ٹیموں کے کھلاڑی شامِل تھے جن میں خیبر پختونخوا سے ضلع خیبر کے تمام شامل کھلاڑیوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی، ”تمام صوبے کے کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ ہے باالخصوص ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے کھلاڑی بہت ہی ٹیلینٹڈ ہیں۔”

جدران آفریدی نے کہا کہ وہ ضلع خیبر تحصیل باڑہ کے برقمبر خیل ولی خیل کے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک مقامی نجی کالج میں گیارہویں جماعت کے طالبعلم ہیں، اُن کے والد بیمار ہیں اور گھر پر ہی رہتے ہیں جبکہ دو بڑے بھائی ہیں وہ محنت مزدوری کر کے بمشکل گھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں جس کی وجہ سے پڑھائی اور کھیل کے لوازمات پورے کرنا میرے لئے بہت مشکل ہے اور اب تک تعلیم بھی نہایت سخت مالی حالات میں پڑھا۔

اُنہوں نے کہا کہ سخت معاشی حالات میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیلوں میں حصہ لینا اور مقابلے کیلئے تیاری کرنا نہایت مشکل کام ہے مگر میرے بھائیوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا جس کی وجہ سے میں اس قابل ہوا کے میں قومی مقابلوں میں حصہ لے سکوں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے مجھے سپورٹ مل جائے تو بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکوں گا۔