پاکستان چین دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے، دفتر خارجہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ چین مکمل ہونے کے بعد دفتر خارجہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پاک چین سدا بہار دوستی ہمیشہ پھلی پھولی اور مستحکم ہوئی ہے جبکہ علاقائی اور عالمی بدلتی ہوئی صورتحال کے بھی اس پر اثرات نہیں پڑے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنا چین کا دو روزہ دورہ مکمل کرکے وطن واپس روانہ ہوئے، چین میں انہوں نے چینی اسٹیٹ قونصلر اور وزیر خارجہ وانگ ژی سے ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین دونوں نے سدا بہار اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

چین کی وزارت خارجی امور کے ترجمان نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات سے متعلق ٹوئٹ میں بتایا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے سب سے زیادہ قابل اعتماد اچھے ہمسائے، اچھے دوست اور اچھے بھائی ہیں۔

بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ نے وانگ ژی کے حوالے سے کہا ہے کہ چین نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے قریب تر برادری کی تعمیر کو فروغ دینے، دونوں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فوائد پہنچانے، زیادہ سے زیادہ شراکت دار بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ دونوں ممالک نے بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مل کر کام کیا ہے اور تعاون کی ایک سدا بہار اسٹریٹجک شراکت قائم کی ہے۔

انہوں یہ ریمارکس چین اور پاکستان وزرائے خارجہ کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے تیسرے دور کے دوران دیئے، جس میں انہوں نے کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک کے تعاون کے بارے میں بھی بات کی جبکہ دونوں فریقین نے ویکسین نیشنلزم سے متعلق اپنے اعتراضات کو دوہرایا۔

داسو پن بجلی منصوبے پر کام کرنے والے چینی شہریوں پر حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وانگ ژی نے حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور مستقبل میں ہونے والے اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کا مطالبہ کیا۔