پاکستان میں ‘پناہ لینے والے’ 46 فوجی افغان حکام کے حوالے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاکستان نے پانچ افسران سمیت چھیالیس افغان فوجیوں کو افغان حکام کے حوالے کردیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق افغان فوجیوں کو رات 12 بجکر 35 منٹ پر افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کا بتانا ہےکہ افغان فوج اور بارڈر پولیس کے جوانوں کو 25 جولائی کو چترال کے ارونڈو سیکٹر میں ان کی درخواست پر پاکستان میں محفوظ راستہ دیا گیا تھا.

انہوں نے کہا کہ لازمی کلیئرنس کے بعد افغان فوجی اپنے ہتھیاروں، گولہ بارود اور مواصلاتی آلات کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے تھے جنہیں رات ہتھیاروں اور سازو سامان کے ہمراہ ان کی درخواست پر افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ضرورت کے وقت پاکستان اپنے افغان بھائیوں کی ہر طرح کی مدد جاری رکھے گا۔

پاکستان نے افغان نیشنل آرمی کے پانچ افسروں سمیت چھیالیس فوجیوں کو پناہ دیدی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق چترال اروندو سیکٹر کے پاس تعینات افغان آرمی کے کمانڈر نے پناہ لینے کیلئے پاک فوج سے رابطہ کیا۔

یہ افغان سپاہی پاک افغان بین الاقوامی سرحد پر واقع اپنی چوکی پر مزید قبضہ جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے تھے، لہذا ان 5 افسران سمیت 46 افغان فوجیوں کو پاکستان میں پناہ اور محفوظ راستہ دیا گیا۔ جس کے بعد 46 فوجی چترال ارندو سیکٹر پہنچے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان پہنچنے والے افغان فوجیوں کو خوراک، شیلٹر اور طبی امداد فراہم کی گئی، پاک آرمی نے معلومات اور ضروری کارروائی کیلئے افغان آرمی سے رابطہ کیا ہے.

افغان فوجیوں کو قانونی عمل سے گزار کر افغان حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یکم جولائی کو بھی 35 افغان فوجیوں نے پاکستان سے پناہ مانگی تھی اور انہیں بھی پناہ اور محفوظ راستہ دے کر افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔