محمد علی سدپارہ سمیت تینوں کوہ پیمائوں کی لاشیں مل گئیں

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

کے ٹو کی بلندی پر لاپتہ ہونے والے معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں کے ٹو چوٹی کی 8 ہزار 600 میٹر کی بلندی پر مل گئی ہیں۔

گلگت بلتستان حکومت کے زرائع نے بھی لاپتہ کوہ پیمائوں کی لاشیں برآمد ہونے کی تصدیق کی ہے۔

پانچ ماہ قبل سردیوں کے موسم میں کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ، جان سنوری اور جان پبلو چوٹی پر آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر واقع بوٹل نیک کے آس پاس لاپتہ ہو گئے تھے جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہ مل سکا تھا۔

کوہ پیمائی سے متعلق ملک گیر تنظیم الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹری کرار حیدری کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ تینوں کوہ پیمائوں کی لاشیں کے ٹو چوٹی پر بوٹل نیک کے قریب 8611 میٹر کی بلندی پر مل گئی ہیں۔

انتہائی بلندی کی وجہ سے لاشوں کو منتقل کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ آرمی ایوی ایشن اس مشن میں مدد فراہم کر رہی ہے۔

کرار حیدری کے مطابق کوہ پیما جان سنوری کی اہلیہ کی درخواست پر ان کے شوہر کی لاش کو آئس لینڈ منتقل کیا جائے گا جبکہ جان پبلو موہر کی ماں اور بہن نے پہلے ہی ان کی لاش کو اپنے آبائی وطن لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بوٹل نیک کے ٹو چوٹی کی انتہائی بلندی پر واقع خطرناک ترین جگہ ہے جہاں پر آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی کوئی بھی ریسکیو مشن کامیاب نہیں ہو سکتا۔

اس کیلئے پہلے تینوں کوہ پیمائوں کی لاشوں کو نیچے 7 ہزار میٹر تک لانا پڑے گا جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر سے منتقل کیا جا سکے گا۔

یاد رہے کہ رواں سال پانچ فروری کو سکردو سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما محمد علی سدپارہ، چلی کے کوہ پیما جان پبلو اور آئس لینڈ کے جان سنوری کے ٹو کی بلندی پر لاپتہ ہوگئے تھے۔

دو ہفتے تک فضائی اور زمینی سرچ و ریسکیو آپریشن کے بعد 18 فروری کو سرکاری طور پر تینوں کوہ پیمائوں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ریسکیو اور سرچ آپریشن ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔