افغانستان میں متحارب گروپس کو ہم نے دہشتگرد نہیں مجاہدین مانا ہے، مولانا فضل الرحمان

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ افغانستان میں کئی دہائیوں ‏سے جنگ جاری ہے، امریکا کو آخر میں یہاں سے بھاگنا پڑا، افغانستان میں متحارب گروپس کو ہم نے ‏دہشتگرد نہیں بلکہ مجاہدین مانا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں منعقدہ پیغام امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ‏‏14 ملین مارچ اور ایک آزادی مارچ سے اپنی حیثیت تسلیم کرائی، دھاندلی سے مسائل حل نہیں ‏ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران حکومت نے فیٹف کے کہنے پر قانون سازی کی، ملک گروی رکھا، امریکا سی ‏پیک کے خاتمے اور چین سے دوستی کا خواہاں ہے، نااہل حکومت امریکا کی خواہش پوری کر رہی ہے، ‏چینی سفیر ہنستا تھا، کیسی حکومت ہے، بڑے پروجیکٹ کے بجائے مرغیاں مانگتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا افغانستان پر مؤقف پہلے بھی اصولی تھا اور اب بھی ہے، امریکا کے ‏کہنے پر کسی پڑوسی کو دہشت گرد نہیں کہہ سکتے.

افغانستان میں کئی دہائیوں سے جنگ جاری ‏ہے، امریکا کو آخر میں یہاں سے بھاگنا پڑا، افغانستان میں متحارب گروپس کو ہم نے دہشتگرد نہیں ‏بلکہ مجاہدین مانا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 90 دن میں کرپشن ختم کرنے والا کرپشن کا بادشاہ بن گیا ہے.

انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے عام ‏آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، ہفتہ وار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں، پاکستان ‏میں دھاندلی زدہ حکومت تسلیم کی نہ آزاد کشمیر میں کریں گے۔