دہشتگردوں کے سلیپر سیلز فعال ہونے کا خدشہ ہے – پاک فوج

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کی کامیابی کیلئے اپنا کردار سنجیدگی سے ادا کر رہے ہیں

انہوں نے نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں امن عمل میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، لیکن ہم افغانستان میں قیام امن کے ضامن نہیں ہیں، اس کا فیصلہ وہاں کے فریقین نے ہی کرنا ہے کہ انہوں نے مستقبل میں کس طرح چلنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان سے امریکا کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر پوری تیاری کر رکھی ہے، کیونکہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام کا سب سے بڑا اثر پاکستان پر ہی پڑے گا، پاکستان کا امن افغانستان کے امن و استحکام کے ساتھ جڑا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بدامنی اور لڑائی کی وجہ سے پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی باقیات اور سلیپر سیلز کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے اور دوسری جانب بلوچستان میں شدت پسند گروپوں کو بھی تقویت مل سکتی ہے، حالیہ دہشتگردی کے واقعات اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

ہم نے دہشت گردی کی طویل جنگ لڑی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 86 ہزار سے زائد قربانیاں دیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک بھر میں ردالفساد آپریشن شروع کرایا.

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں آپریشن کیے، اس میں بے مثال کامیابیاں ملیں، ہم اپنی قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات کے لیے ہم نے بہت تیاری کی ہے، ملکی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، پاک افغان بارڈر پر 90 فیصد باڑ لگا چکے ہیں، پاک افغان سرحد پر تمام غیر قانونی پوائنٹس کو سیل کر دیا گیا ہے.

انہوں نے کہا کہ بارڈر پر جدید بائیومیٹرک سسٹم کی تنصیب بھی کی گئی ہے، مغربی سرحد کی فینسنگ افغانستان کے لیے بھی بہتر ہے، پاک ایران سرحد پر بھی فینسنگ کا کام تیزی سے جاری ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع میں پولیس اور لیویز کی تربیت کی نگرانی فوج کر رہی ہے، ایف سی کی استعداد کار میں بھی بے مثال اضافہ ہوا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال کامیابیاں حاصل کیں، خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع میں 150 سے زائد دہشتگردی کے واقعات ہوچکے ہیں، آپریشن بھی ہو رہے ہیں، جن میں اب تک 42 دہشتگردوں کو مار چکے ہیں.

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام نو گو ایریاز ختم کر دیئے، آپریشن جارحانہ انداز میں کر رہے ہیں اور دہشت گرد بھاگ رہے ہیں، وثوق سے کہتا ہوں کہ پاکستان میں کوئی دہشت گرد موجود نہیں.

انہون نے خبر دار کیا کہ افواج پاکستان دشمن عناصر کی سرکوبی کیلئے ہر طرح تیار ہے، ہمارے جوان دہشت گردوں کو ختم کیے بغیر دم نہیں لیں گے۔