ملالہ کی تصویر شائع کرنے پر آکسفورڈ پبلیشر کو شوکاز نوٹس جاری

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

غیر منظور شدہ کتاب کی اشاعت پر پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ نے آکسفورڈ پبلشرز کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا۔

بورڈ نے آکسفورڈ پریس کو 7 روز میں جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی۔

آکسفورڈ پریس نے بورڈ کی منظوری کے بغیر سوشل سٹڈیز گریڈ ون کی کتاب کی اشاعت کی۔

ڈائریکٹر مسودات ٹیکسٹ بک بورڈ نے آکسفورڈ پریس کو شوکاز نوٹس بھیج دیا ہے۔

گریڈ ون کی کتاب میں منظوری کے بغیر قومی ہیروز کیساتھ ملالہ یوسفزئی کی تصویر شائع کی گئی۔

7 روز میں جواب نہ دینے پر پبلیشر کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

بورڈ حکام نے ایکٹ کی شق دس اور پندرہ کے تحت آکسفورڈ پریس کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔

بورڈ قوانین کے تحت این او سی کے بغیر کتب کی اشاعت قابل سزا جرم ہے۔

پنجاب میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی ساتویں جماعت کی معاشرتی علوم کی کتاب میں بانی پاکستان اور علامہ اقبال سمیت اہم تاریخی شخصیات کے ساتھ ملالہ یوسف زئی کی تصویر شائع کرنے پر کتاب ضبط کرلی گئی۔

پنجاب کیری کیولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے حکام نے لاہور میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے دفتر پر چھاپہ مار کر ساتویں جماعت کے نصاب میں پڑھائی جانے والی معاشرتی علوم کی تمام کتابیں ضبط کرلیں۔

پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کے حکام کا کہنا تھا کہ اس کتاب کے صفحہ 33 میں اہم تاریخی شخصیات کے صفحے پر قائد اعظم، علامہ اقبال، سر سید احمد خان، لیاقت علی خان، عبدالستار ایدھی اور شہید میجر عزیز بھٹی کے ساتھ ملالہ یوسف زئی کی تصویر بھی شائع کی گئی تھی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی یہ کتاب صوبے بھر کے اسکولوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔

بورڈ کے حکام اور پولیس کی جانب سے دکانوں پر چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور جلد ہی یہ کتاب تمام دکانوں سے اُٹھالی جائے گی۔

پنجاب بورڈ کے ایک اعلیٰ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ اس کتاب کی منظوری کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے 2019ء میں درخواست دی تھی تاہم بورڈ نے کتاب چھاپنے کے لیے این او سی جاری نہیں کیا تھا، بھر بھی کتاب شائع کردی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی پنجاب بورڈ نے 100 ایسی کتابوں پر پابندی عائد کردی تھی جس میں دو قومی نظریے سے متعلق غیر حقیقی اور گمراہ کن مواد شامل تھا۔