پاکستان اپنے ہمسایہ ملک افغانستان میں امن و استحکام ناگزیر سمجھتا ہے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاکستانی وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر تاجکستان کے وزیرخارجہ سراج الدین مہرالدین سے ملاقات، تاجک وزیرخارجہ نے شاہ محمود قریشی اور ان کے وفد کا خیر مقدم کیا۔

تاجک وزیرخارجہ نے دورہ تاجکستان کی دعوت قبول کرنے اور دوشنبے آمد پر شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا، دونوں وزرائے خارجہ کے مابین ملاقات وزارت خارجہ تاجکستان میں ہوئی۔ دوران ملاقات دوطرفہ تعلقات، کثیرالجہتی شعبہ جات میں دوطرفہ تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال ہوا.

وزیرخارجہ نے اپنے تاجک ہم منصب کو شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی میزبانی اور اعلی انتظامات پر مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی بیسویں سالگِرہ کے موقع پر وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کا انعقاد اور اس میں شرکت باعثِ مسرت ہے۔

تاجک صدر امام علی رحمان کے حالیہ دورہ پاکستان سے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دو طرفہ برادرانہ تعلقات، مزید مستحکم ہوئے، دونوں وزرائے خارجہ نے اپنی قیادت کے وژن کے مطابق پاکستان اور تاجکستان کے مابین دوطرفہ اقتصادی، تجارتی و عوام کی سطح پر تعلقات کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ علاقائی و عالمی امور کے حوالے سے پاکستان اور تاجکستان کے نکتہ نظر اور سوچ میں گہری مماثلت ہے جو خوشی کا باعث ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے ایس سی او سمیت بین الاقوامی فورمز پر دوطرفہ تعاون کو سراہتے ہوئے انہیں مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا، اس موقع پر افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

وزیرخارجہ نے تاجک ہم منصب کو افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی مخلصانہ مصالحانہ کاوشوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کو خطے کے امن و استحکام اور تعمیر و ترقی کیلئے ناگزیر سمجھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے۔