اسٹیٹ بینک کی ’مالی استحکام کا جائزہ‘ برائے 2020 رپورٹ جاری

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی استحکام کا جائزہ برائے 2020ء سے متعلق رپورٹ جاری کر دی، جس میں کہا گیا ہے کہ مالی نظام نے کورونا کے دوران لچک کا مظاہرہ کیا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بینکوں، مالی اداروں و منڈیوں اور دیگر کے انفراسٹرکچر کی کارکردگی کا تجزیہ پیش کیا گیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ 2020ء مالی شعبے کیلئے ایک ہمت آزما سال تھا، کورونا وائرس کی وبا عالمی کساد بازاری کا سبب بنی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحت کے اس بحران سے معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، پاکستان میں کورونا وائرس کی لہروں کے اثرات نسبتاً کم رہے، مالی سال 2020ء میں پیداواری خسارہ 0.47 فیصد رہا۔

رپورٹ کے مطابق خسارہ ابھرتی منڈیوں اور ترقی پذیر ممالک میں کم ترین شرح میں سے ایک ہے، اقتصادی دباؤ دوسری ششماہی اور اس کے بعد کے عرصے میں کم ہوا، نئی رعایتی ری فنانسنگ اسکیمز، قرضوں کا التوا اور ری شیڈولنگ جیسے اقدامات اٹھائے گئے گئے، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، روزگار اور دیگر اقدامات بھی سامنے آئے۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گھرانوں اور کاروباری اداروں کو معاونت دی گئی، جس سے معیشت بحال ہوئی، مالی نظام کے اثاثے 2020ء میں 14.08 فیصد کی شرح سے بڑھے.

یاد رہے کہ گذشتہ سال یہ شرح 11.61 فیصد رہی تھی، اسلامی بینکاری کے اثاثہ جات میں 2020ء میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔