ابتدائی طبی امداد پروگرام کے تحت مختلف سرکاری و غیر تعلیمی اداروں اور مدارسِ میں فرسٹ ایڈ بکسز تقسیم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin
ضلع مہمند میں ابتدائی طبی امداد پروگرام کے تحت مختلف سرکاری و غیر تعلیمی اداروں اور مدارسِ میں فرسٹ ایڈ بکسز تقسیم کیے گئے۔
 
پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں ضلع مہمند کے مختلف 35 سرکاری و غیر سرکاری سکولوں، کالجوں اور مدارس میں ابتدائی طبی امداد پروگرام کے تحت فرسٹ ایڈ بکسز تقسیم کیے۔
 
اس موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر مہمند افتخار عالم تھے۔ جبکہ اس موقع پر ابتدائی طبی امداد پروگرام کےصوبائی کو آ رڈینٹر افتخار احمد’ ڈسٹرکٹ سیکرٹری ہلال احمر ضلع مہمند فوزی خان’ تحصیلدار امبار گوہر علی’ تحصیلدار یکہ غنڈ جہانگیر خان سرکاری و غیر سرکاری سکولوں اور مدارس کے اساتذہ بھی موجود تھے۔
 
ڈپٹی کمشنر مہمند افتخار عالم نے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ فرسٹ ایڈ کی اہمیتِ کو ئ انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ معاشرے کے ہر فرد کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے ہلال احمر ضلع مہمند کے سرگرمیوں کی تعریف کی اور انتظامیہ کی جانب سے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔
 
انہوں نے کہا ہلال احمر مہمند کے ذمہ داروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فرسٹ ایڈ کے تربیت کا دائرہ کار ماربل ماءینز میں کام کرنے والے تک بڑھائی کیونکہ اکثر اوقات میں یہاں پر حادثے پیش آ تے ہیں. ڈپٹی کمشنر مہمند افتخار عالم نے ابتدائی طبی امداد پروگرام کے تحت تربیت کو مدارس میں کرنے پر ہلال احمر مہمند کو سراہا اور کہا کہ مدارس ہمارے سب سے اہمیتِ کے حامل ہیں۔
 
ضلع مہمند میں ایک فرسٹ ایڈ ریسپانڈر ٹیم پہلے سے موجود ہیں جس میں مختلف تحصیلوں سے 25 جوانوں کو تربیت دی گئی ہیں اور یہ ٹیم ضلع مہمند کے مختلف موقعوں جیسے سپورٹس فیسٹیول اور جشن آزادی میں ابتدائی طبی امداد فراہم کررہے ہیں۔
 
صوبائی پروگرام کو آ رڈینٹر افتخار احمد نے کہا کہ ابتدائی طبی امداد وہ فوری مدد ہے جو کسی زخمی یا بیمار شخص کو ایمبولینس یا ڈاکٹر کے پہنچنے سے پہلے فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزمرہ زندگی میں ہرکسی کے ساتھ کوئی نہ کوئی حادثہ رونما ہونا معمول کی بات ہے جس میں ابتدائی طبی امداد کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جاتا ہے۔
 
انہوں کہا کہ ابتدائی طبی امداد پروگرام جان بچانے کی وہ کاوش ہے جس کے سیکھنے سے ہم اپنے گھر میں یا اس پاس ہونے والی ایمرجنسی یا حادثے کی صورت میں کسی کی جان بچانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
 
ہلال احمر پاکستان ضم شدہ اضلاع کے مطابق 9 نئ ضم شدہ اضلاع مہمند , خیبر، باجوڑ’ شمالی وزیرستان٫ جنوبی وزیرستان، اپر کرم٫ لوئر کرم، اورکزائ اور ایف آ ر ٹانک میں 300 سے زائد فرسٹ ایڈ بکسز تقسیم کریں گے۔
 
ہلال احمر ضلع مہمند کے ڈسٹرکٹ سیکرٹری فوز ی خان نے علاقے میں مختلف آ فات زلزلے اور سیلاب میں عوام کو خوراک اور غیر خواارکی مواد تقسیم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہلال احمر نے علاقے میں نہ صرف سرکاری سکولوں میں بلکہ دینی مدارس اور عسائیوں جیسے اور حساس طبقوں کو بھی فرسٹ ایڈ کی تربیت دی ہیں۔
 
فوزی خان نے کہا کہ ہلال احمر پاکستان کا ابتدائی طبی امداد پروگرام 2020 تک مزید جاری رہیگا جسمیں ہم معاشرے کے تمام محکموں اور دیگر دوسرے طبقوں کو فرسٹ ایڈ تربیت فراہم کریں گے۔
 
ڈپٹی کمشنر مہمند افتخار عالم نے پروگرام کے آ خر میں سرکاری و سکولوں،مدارس میں فرسٹ ایڈ بکسز تقسیم کیے۔ ہلال احمر پاکستان ضلع مہمند کی طرف سے سیکرٹری فوزی خان نے ڈپٹی کمشنر مہمند افتخار عالم کو ایک شیلڈ بھی پیش کیا۔