وفاق نے بجلی منافع کے 25 ارب روپے خیبر پختونخوا کو ادا کر دیئے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وفاقی حکومت نے بجلی خالص منافع کے بقایا جات کی مد میں واجب الادا 36 ارب میں سے 25 ارب روپے نئے مالی سال کے آغاز پر ہی خیبر پختونخوا حکومت کو ادا کر دیئے جبکہ مزید 11 ارب کے بقایا جات پر مشتمل دوسری قسط بھی جلد جاری کی جائے گی۔

صوبائی وزیر خزانہ و صحت تیمور سلیم جھگڑا نے معاون خصوصی اطلاعات کامران بنگش کے ہمراہ میڈیا سیل سول سیکرٹریٹ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی منافع بقایا جات کے حوالے سے وزیراعظم صوبہ کی عوام سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے.

انہوں نے کہا ہے کہ ہم صوبائی حقوق کے لیے کوشاں تھے، جس کے تحت ماہانہ 3 ارب روپے ملتے ہیں، مرکز نے گذشتہ سال کے بقایا جات کی مد میں 25 ارب روپے جاری کر دیئے ہیں.

انہوں نے مزید کہا ہے کہ بجلی منافع کے بقایا جات ادائیگی کا کریڈٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ محمود خان کو جاتا ہے اور ہم اپنے صوبہ کے دو بڑوں اسپیکر قومی اسملی اسد قیصر اور وزیر دفاع پرویز خٹک کی کوششوں کو بھی سراہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجلی منافع کا پیسہ صوبائی خزانہ کا حصہ بنتا ہے اور تمام کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ ہم پیڈو کو زیادہ اختیارات دے رہے ہیں، تاکہ وہ وسائل بھی پیدا کریں اور بجلی کے پیداواری منصوبے بھی شروع کریں۔

تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ بجلی کے منصوبوں پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ایک سال میں ہمیں بجلی منافع کی مد میں 47 ارب ملے ہیں، ہم نے جو فیصلے لیے تھے، وہ اسی بنیاد پر لیے تھے کہ پیسہ آگیا ہے، کے پی آر اے نے جون میں 2.2 ارب جبکہ سال بھر میں 20.8 ارب کا ریونیو حاصل کیا، محکموں کی جانب سے ایک پیسہ بھی سرنڈر نہیں کیا گیا۔

ہم نے مالی سال کے پہلے دن ہی سارے ترقیاتی فنڈز جاری کر دیئے ہیں، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ سال کے پہلے ہی دن سارے فنڈز جاری کیے گئے ہوں، اب محکمے یہ فںڈز استعمال کریں، 210 ارب کے صوبائی پروگرام کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں، اس اقدام سے جون ازم کا خاتمہ ہوگا، یہ انقلابی قدم ہے، جس سے پورا سال فنڈز استعمال ہوں گے۔

تیمور سلیم جھگڑا نے مزید کہا کہ جو محکمے فںڈز استعمال نہیں کر پائیں گے، ان کے فنڈز دیگر محکموں کو منتقل کیے جائیں گے، ہم شفافیت اور فعالیت کے لیے کام کر رہے ہیں، تاکہ عوام کی تقدیر بدل جائے، دیگر صوبوں سے ضم اضلاع کے لیے تین فیصد حصہ لینے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کا فورم استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ پنشن کی ادائیگی کے لیے بہتر اچھا آپشن تلاش کر رہے ہیں، پنشن کے اخراجات پندرہ سال میں سو گنا بڑھے اور اس سال کے لیے 100 ارب کی ادائیگی کرنی ہے، انڈیا میں پنشن ادائیگی کنٹری بیوٹری فنڈ سے کی جاتی ہے، ایسا نظام یہاں پر قائم کیا گیا، لیکن ایم ایم اے اور اے این پی حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اس پر کام نہ ہوسکا اور اس نظام کو لپیٹ دیا گیا، ہم نے پنشن کو محدود کر دیا ہے، جو اب ریٹائرڈ ملازم اور اس کے فوت ہونے کے بعد اس کے بچوں، بیوہ اور والدین کو ہی مل پائے گی۔