قبائلی اضلاع : طلباء نے بجٹ میں مختص سکالرشپ کو ناکافی قرار دے دیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں قبائلی اضلاع کے طلباء کے لیے وظیفوں کی مد میں 23 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے لیکن قبائلی طلباء نے اس رقم کو ناکافی قرار دیا ہے۔

ٹرائبل پریس  کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران قبائلی طلباء تنظیم ٹرائبل یوتھ فورم کے چیئرمین اور نیشنل یوتھ کونسل ممبر ریحان زیب نے کہا کہ اگرچہ یہ رقم کم ہے تاہم پھر بھی کچھ نہ ہونے سے کچھ نہ کچھ ہونا بہتر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ رقم وہاں لگائی جائے جس چیز کے لیے یہ مختص کی گئی ہے یعنی طلباء کو وظائف مل جائیں، ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اس کا پتہ ہی نہ چل سکے یا مکمل طور پر غائب ہو جائے، گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ طلباء کو فوائد دیئے جائیں اس سے۔

ریحان زیب نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو قبائلی اضلاع میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کو بھی پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں تعلیم کی صورتحال ابتر ہے جہاں لڑکوں کی تعلیمی شرح 20 سے 24 فیصد جبکہ لڑکیوں کی تعلیم کی شرح 7 فیصد ہے تو اس لیے حکومت کو چاہئے کہ وہ تعلیم کی مد میں جو پیسے پشاور اور چارسدہ میں لگاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ قبائلی اضلاع میں لگائے کیونکہ ان اضلاع میں تعلیم کو اہمیت دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

ریحان زیب نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بجٹ میں تعلیم کے لئے جو پیسے مختص کئے ہیں اس میں سے قبائلی اضلاع میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی خرچ کریں۔

انہوں نے بتایا کہ قبائلی اضلاع میں کالجز اور ہائر سیکنڈری سکولز کی تعداد کافی کم ہے جبکہ پورے ضلع باجوڑ میں صرف ایک ہائر سیکنڈری سکول موجود ہے، اس حوالے سے بھی حکومت کو قبائلی اضلاع میں کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا نہ ہو کہ پچھلے کئی سالوں کی طرح اس سال بھی میٹرک سے فارغ سینکڑوں طلباء گھر بیٹھ جائے اور وہ آگے داخلہ نہ لے کالجز کی کمی وجہ سے۔

ریحان زیب نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں منتخب نمائندے سڑکوں پر سیاست کرتے ہیں حالانکہ ان کو چاہئے کہ وہ یہ پیسے تعلیم پر لگائے، نئے اساتذہ بھرتی کریں، نئے سکول اور کالجز بنائے اور تعلیم کو عام کریں تاکہ قبائلی طلباء کا مستقبل روشن ہو سکیں۔

یاد رہے بجٹ میں قبائلی اضلاع کے لیے 199 ارب روپے اور پورے صوبے میں تعلیم کے لیے 180 ارب مختص کئے گئے ہیں، حکومت کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں 4300 نئے اساتذہ کو نوکری دی جائے گی اور 40 نئے کالجز تعمیر کئے جائیں گے۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ اس حوالے سے گفتگو میں ٹرائبل یوتھ موومنٹ کے خیال زمان نے بتایا کہ قبائلی اضلاع کے طلباء کا وقت بدامنی کی وجہ سے ضائع ہو چکا ہے، یہاں تعلیمی ادارے تباہ حال پڑے ہیں اور حکومت کی جانب سے تعلیم پہ کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی اور یہ 23 کروڑ روپے انتہائی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی طلباء کو وظائف دینا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ وہ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

خیال زمان نے کہا کہ ان کی تنظیم نے انضمام کے لیے اس لیے کوششیں کی تھی تاکہ قبائلی اضلاع کو بھی باقی ملک کے دیگر حصوں کی طرح حقوق مل سکیں، یہاں سکول اور کالجز بنے، ہسپتال بنے اور قبائلی طلباء تعلیم حاصل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر بجٹ میں قبائلی اضلاع کے لیے منصوبے اعلان کئے جاتے ہیں لیکن اس پر عملی کام نہیں ہوتا اور جو پیسے مختص ہوتے ہیں اس سے قبائلی طلباء اور قبائلی عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔

ٹرائبل یوتھ موومنٹ کے صدر نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں 40 کالجز بنائے جائیں گے لیکن حقیقت میں یہ سب پرانے منصوبے ہیں اس میں کوئی بھی نیا منصوبہ نہیں ہے نہ ہی کسی میڈیکل کالج کا ذکر ہے اور نہ ہی کسی یونیورسٹی کا اور تو اور ابھی تک فاٹا یونیورسٹی کو مکمل نہ کیا جا سکا۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر سارے قبائلی اضلاع میں ممکن نہ ہو تو کچھ اضلاع میں میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز بنائی جائیں۔ خیال زمان نے کہا کہ انضمام کے وقت قبائلی اضلاع کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ کا تین فیصد حصہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن تین سال گزرنے کے بعد بھی نہ مل سکا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ انضمام کے وقت جو وعدے کئے گئے تھے اس کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ قبائلی طلباء اور عوام کی مشکلات میں کمی آ سکے۔