بجٹ پر بحث مکمل، ضم اضلاع کیلئے 3 فیصد حصے کا مطالبہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبر پختونخوا اسمبلی میں آئندہ مالی سال 22-2021 پر اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے اپنی بحث مکمل کر لی۔

جمعرات کے روز سپیکر مشتاق احمد غنی کی زیرصدارت اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کی رکن مومنہ باسط نے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی بجٹ عوامی بجٹ ہے، ہزارہ ڈویژن میں انڈسٹریل اسٹیٹ، زیرتکمیل یونیورسٹی، پانی، توانائی، سڑکیں اور دیگر سیکٹر میں میگا پراجیکٹ کیلئے بجٹ میں رقم مختص کی گئی ہے، صوبائی حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا ہے۔

ایم ایم اے ہدایت اللہ نے کہا کہ دریائے رشیم کے کٹاؤ کی وجہ سے علاقے میں بڑا نقصان پہنچا ہے، استدعا ہے کہ متاثرین کو ریلیف دیا جائے، پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی میں چترال کیلئے سکیمیں رکھی گئی ہیں اس پر مرکزی و صوبائی حکومت کے مشکور ہیں، اپرچترال کی ترقی کیلئے سیکرٹریٹ بنایا جائے، مستوج بروغل روڈ کو پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائے، اس کے علاوہ چترال میں صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

ایم پی اے ریحانہ اسماعیل نے کہا کہ بجٹ پیش کرنے کا طریقہ کار غیرجمہوری رہا ہے، یہ خفیہ ڈاکومنٹس کے طور پر ایوان میں پیش ہوتا ہے، ہونا یہ چاہئے تھا کہ بجٹ آنے سے پہلے اراکین کے ساتھ جمہوری انداز میں بجٹ پر تبادلہ خیال کیا جائے۔

پی پی رکن ثنا اللہ نے کہا کہ دیر موٹروے، پنج کوڑا رائٹ لفٹ کنال، خال واٹر سکیم پی ایس ڈی پی میں شمولیت پر وزیراعلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سکولوں کی اپگریڈیشن کیلئے کام کیا جائے حلقہ نیابت میں 22 سکول نان ڈویلپمنٹل فنڈ کے تحت اپ گریڈ ہوئے، یہی طریقہ کار اپنایا جائے، صحت سہولت کارڈ بہترین اقدام ہے تاہم اس کا دائرہ کار سہولت سے آراستہ پرائیویٹ ہسپتالوں تک بڑھایا جائے۔

ایم پی اے نثار مہمند نے کہا کہ حکومت اپوزیشن اراکین کا احساس رکھتے ہوئے سکیموں میں ان کا خیال رکھے، وزیراعلی کے ساتھ ملاقات کے بعد امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں گے، 25ویں آئینی ترمیم کے تحت ضم اضلاع کو این ایف سی ایوارڈ کا تین فیصد حصہ دیا جائے، ضلع مہمند پسماندہ مگر معدنی لحاظ سے زرخیر علاقہ ہے تجارتی راستے کھولے جائیں جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، تحصیلوں میں سکول بنائے جائیں۔

معاون خصوصی تاج محمد ترند نے کہا کہ کرونا کی وباء کے دوران صوبائی حکومت نے ایک بہترین بجٹ پیش کیا ہے، یقیناً ملک میں مہنگائی ہو گئی ہے لیکن مرکزی و صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوششیں کر رہی ہیں، احساس پروگرام، یوٹیلٹی سٹور کے ذریعے عوام کو سہولیات دی جا رہی ہیں، فوڈ باسکٹ کیلئے دس ارب رکھے ہیں، گندم پر سبسڈی کیلئے دس ارب رکھے ہیں، ملازمین کی تنخواہ میں خاطرخواہ اضافہ کیا، پہلی مرتبہ خطبا کیلئے وظیفہ رکھا گیا، حکومت کا کام روزگار کے مواقع دینا ہے، ہم 20 ہزار اساتذہ اور تین ہزار سکول لیڈرز بھرتی کریں گے، تمام شعبوں میں اقدامات کے زریعے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہائیڈل میں 161 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ کو جا رہی ہے، انڈرکنسٹرکشن منصوبوں میں 365 منی مائیکرو ہائیڈل پراجیکٹ امسال مکمل ہو گا جس سے 35 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی، کوٹو ہائیڈل پراجیکٹ چالیس میگاواٹ کا پراجیکٹ اس سال مکمل ہو گا، کروڑا شانگلہ 11 میگاواٹ بھی اس سال مکمل ہو گا، ریشو چترال میں 4.2 بھی امسال مکمل ہو گا، لاوی چترال 69 میگاواٹ 2023، مٹل تان سوات 84 میگاواٹ 2023، چپڑی 10.56 بھی 2023، بالاکوٹ مانسہرہ 300 میگاواٹ کا پراجیکٹ 2026 میں مکمل ہو گا، بٹہ کنڈی 96 میگاواٹ، تورغر میں 6.95 کا منصوبہ بھی شامل ہے، ویلنگ سسٹم سے ریونیو بڑھی ہے، انڈسٹریز کو فائدہ پہنچا ہے، پانچ ہزار مساجد کی سولرائزیشن سسٹم کیلئے فیز ٹو پر رکھ دیا ہے۔

معاون خصوصی عارف احمدزئی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں میرٹ اور شفافیت کی بنیاد رکھی ہے، محکمہ معدنیات مقامی بندوں کو منزل ٹائٹل دے گا، 2013 میں 57 کروڑ سے ریونیو شروع ہوئی تھی لیکن آج دو ارب 65 کروڑ اور رواں ماہ کے اختتام پر پانچ ارب ریونیو معدنیات میں آئے گی۔

بابر سواتی نے کہا کہ حکومت نے تاریخ میں پہلی مرتبہ بیلنس بجٹ پیش کیا جس کی تمام تعریف کر رہے ہیں، تمام ڈویژنز کو یکساں فنڈ دینے پر وزیراعلی کا شکر گزار ہوں، صحت انصاف کارڈ گیم چینجر منصوبہ ہے اس سہولت کی بھرپور کوریج کی جائے تاکہ باقی مد میں لگنے والی صحت کی رقم میں بچت ہو، بجٹ میں ایک ارب 78 کروڑ اسمبلی پر خرچ ہو گا، استدعاہے کہ ہمارا پرفارمنس آڈٹ کیا جائے۔

دیگر اپوزیشن و حکومتی اراکین نے اے ڈی پی میں اپنے حلقوں کیلئے سکیمیں شامل کرنے کا مطالبہ کیا اور حکومت کو اہم تجاویز دیں۔