گورسل سرحد کابل اور جلال آباد سے پشاور تک مختصر ترین راستہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

بائلی ضلع مہمند کو افغانستان کے صوبے ننگرہار سے ملانے والی گورسل سرحد 2011 سے بند ہے جس کی وجہ سے سرحد کے آر پار تجارتی سرگرمیاں اور لوگوں کے درمیان روابط متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے تجارتی شراکت داری/ٹریڈ پارٹنر شپ کی ایک لمبی تاریخ ہے، افغانستان پاکستانی بندرگاہ کے ذریعے بیرون ممالک کے ساتھ تجارت کرتا ہے تو پاکستان افغانستان سے ہوکر ہی وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل کرتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارت پاک افغان تریڈ ٹرانزٹ سمجھوتے کے تحت ہوتی ہے جس میں بندرگاہ، گزرگاہ، ٹرانسپورٹ اور طریقہ کار  وغیرہ سب طے کیے گئے ہیں (تاہم) وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں کافی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

گورسل پاک افغان بارڈر کی متعدد تجارتی راہداریوں میں سے ایک ہے جو جنوبی ایشیا سے وسطی ایشیا تک تجارتی راہداری کے طور پر بروئے کار لائی جاتی ہیں۔

گورسل سابقہ فاٹا کی تجارتی راہداریوں جیسے طورخم، غلام خان اور انگور اڈہ سے کسی بھی لحاظ سے کم اہمیت کی حال نہیں ہے لیکن توجہ اور سہولیات کے فقدان کے باعث اس تجارتی شاہراہ سے کماحقہ استفادہ نہ کیا جاسکا۔

یہ کابل اور جلال آباد سے پشاور تک مختصر ترین راستہ ہے، حالیہ بدامنی کے دوران افغانستان کی طرف سے عسکریت پسندوں کی دخل انددازی کے باعث 2011 مں یہ سرحد بند کردی گئی تھی۔

اس بندش کی وجہ سے قبائلی ضلع مہمند کی معاشی حالت براہ راست اور بری طرح سے متاثر ہوئی جس کی شرح حالیہ برسوں میں کم ترین رہی۔

نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے شدت پسندی میں گھرا ضلع مہمند مزید متاثر ہوا، معاشی حالت کی ابتری کے باعث وہاں کے لوگوں کا معیار زندگی کی بھی براہ راست متاثر ہوا۔

گورسل بائزئی سب ڈویژن میں واقع ہے جہاں مختلف قبائل کی مشترکہ سماجی، تاریکی، مذہبی، لسانی اور ثقافتی اقدار ہیں، خوئزئی اور صافی قبائل کے کچھ لوگ سرحد کے اُس پار بھی آباد ہیں۔

جدید سرحدی گزرگاہوں کے تعین اور خطے یں پختہ سڑکوں کے ذریعے منظم ٹریفک سے قبل پاکستان افغانستان کے درمیان روابط کیلئے یہی گورسل سرحد ہی استعمال کی جاتی تھی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارتی حجم کا تخمینہ ڈھائی ارب ڈالر سے زائد لگایا جاتا ہے جبکہ غیرسرکاری تجارت کا حجم تقریباً پانچ ارب ڈالر سے زائد ہے۔

کابل اور جلال آباد سے پشاور تک مختصر ترین راستہ ہونے کی وجہ سے گورسل بارڈر گیٹ خطے اور علاقے میں سماجی و معاشی ترقی کا مرکز بن سکتا ہے، اس راستے سے تجارت وسطی ایشیائی ممالک اور وہاں سے مشرقی یورپ تک پھیلائی جاسکتی ہے۔

تجارتی سرگرمیوں سے علاقے مین روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے (جس کے بعد) ضلع مہمند اور ملحقہ دیگر علاقے مزید پسماندہ نہیں رہیں گے، یہاں تجارت سے مقامی لوگ خطے میں روزگار شروع کریں گے جس سے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ اقدام ترقیاتی سرگرمیوں کو مہمیز  دے گا۔ وقت اور لاگت کی بچت کے ساتھ گورسل گیٹ پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ پاک چائنہ اقتتصادی راہداری کے تناظر میں گورسل گیٹ موثر تجاری مواقع پیش کرتا ہے۔

موجودہ حکومت نے گورسل بارڈر دوبارہ کھولنے کی امید پیدا کی ہے جو تجارتی برادری کیلئے ایک خوشخبری ہے، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے دوروں سے سرحد کے کھلنے کی مزید امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔

28 اگست کو ضلع مہمند کے دورہ کے موقع پر وزیراعلیٰ محمود خان نے اعلان کیا تھا کہ گورسل سرحد جلد کھول دی جائے گی جبکہ یہ معاملہ اپیکس کمیٹی اجلاس میں بھی زیر بحث آیا تھا۔

ایم این اے ساجد خان اور سینیٹر ہلال الرحمٰن بھی یہی وعدہ کرچکے ہیں کہ سرحد جلد ہی کھول دی جائے گی۔

محمد صادق خان نامی ایک مقامی تاجر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ گورسل بارڈر افغانستان کے ساتھ ایک اہم سٹریٹجک کنکشن ہے جہاں سے اربوں ڈالر کی تجارت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورسل بارڈر کی بندش سے ضلع مہمند کی کاروباری کمیونٹی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔

” ہمارے کاروبار میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، ایک وقت تھا کہ دس لاکھ روپے سے زائد ہماری یومیہ سیل ہوتی تھی جو اب صرف ایک تا پانچ ہزار یومیہ تک آگئی ہے، ہمارے مقامی بازار میں 30 فیصد دوکانیں خالی پڑی ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا۔

محمد صادق کے مطابق مقامی تاجروں کو توقع تھی کہ 8 اگست کو یہ سرحد کھول دی جائے گی تاہم ایسا نہ ہوسکا۔

پٹرول پمپ کے مالک محمد وصی اللہ کا کہنا تھا کہ گورسل راہداری پر ان کا پٹرول پمپ حال ہی میں فعال ہوا ہے، سرحد کھولی گئی تو ان کا پٹرول پمپ اچھا خاصا مننافع کمائے گا۔

(تاہم) عبدالواجد خان نامی دوکاندار سرحد کے کھلنے کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں بقول جن کے یہ صوبائی الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے کچھ سیاستدانوں نے جھوٹے وعدے کیے ہیں۔