پانچ منٹ کی کال پر ٹیکس، ٹیلی کام انڈسٹری کا ردعمل آگیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ٹیلی کام انڈسٹری نے پانچ منٹ کی موبائل فون کالز پر 75 پیسے اضافی ٹیکس کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔

ٹرائبل پریس کے مطابق ٹیلی کام انڈسٹری کا کہنا ہے کہ پانچ منٹ کی موبائل فون کالز پر 75 پیسے اضافی ٹیکس سے بنڈل آفر کی سہولت والے 98 فیصد پری پیڈ صارفین کے لیے مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔

ٹیلی کام انڈسٹری کا کہنا ہے کہ نئے ٹیکس کا اطلاق آپریٹرز کی جانب سے عوام کی سہولت کے لیے فراہم کیے جانے والے بنڈلز کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری کے مطابق یہ ٹیکس صارفین کو پانچ منٹ سے پہلے کال کاٹ کر دوبارہ ملانے کی جانب راغب کرسکتا ہے جس سے وہ اضافی ٹیکس سے بچ جائیں گے اور حکومت کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

حکام کے مطابق اضافی ٹیکس صرف ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے پیچیدگی اور عوام کے لیے تکلیف کا باعث بنے گا۔

دوسری جانب ٹیلی کام ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے 5 منٹ سے زائد دورانیہ کی کال مہنگی کردی جائے گی، بجٹ میں 5 نٹ سے زائد موبائل کال پر 75 پیسے اضافے ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ 5 منٹ کی موبائل فون کال پر پہلے ہی 19.5 فیصد ایف ای ڈی اور دیگر ٹیکسز عائد ہیں، پرانے ٹیکسز کے ساتھ 5 منٹ کی کال ایک روپیہ 98 پیسے کی تھی، نئے ٹیکس سے 5 منٹ سے زائد کی کال 2 روپے 72 پیسے کی ہوگی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی فیصلے سے پری پیڈ پیکیجز زیادہ مہنگے ہوں گے جو کم آمدن والے افراد استعمال کرتے ہیں، 5 منٹ سے زائد کی کال پر اس اضافے سے ٹیکس ریٹ 65 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

ٹیلی کام ذرائع کا کہنا ہے کہ اقدام سے موبائل فونز پر ملنے والے ٹیکس میں کمی آئے گی اور واٹس ایپ، فیس بک میسنجر ودیگر ایپ سے کال کے رجحان میں مزید اضافہ ہوگا۔

کال اور انٹرنیٹ پر ٹیکس سے متعلق اہم وضاحت

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے تین منٹ سے لمبی کال اور انٹرنیٹ کے استعمال پر نئے ٹیکس ‏سے متعلق اہم وضاحت کر دی۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں حماداظہر نے واضح کیا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے بجٹ میں کال ‏اور انٹرنیٹ پر اضافی ٹیکس کی منظوری نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیے جانے سے قبل اسے فنانس بل میں شامل نہیں ‏کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ میں اعلان کیا تھا کہ تین منٹ ‏سے زیادہ موبائل فون کال اور انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال پر ‏ایف ای ڈی کی تجویز ہے۔

تین منٹ سے زائد کال اور انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایس پیغامات پر بھی ایف ای ڈی عائد ‏کردیا ‏گیا ہے۔

حکومتی اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر اضافی ٹیکسوں پر صارفین نے شدید ردعمل دیتے ہوئے ‏فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔