قبائلی اضلاع میں نافذ اے ڈی آر پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبرپختونخوا کے چھ قبائلی اضلاع میں نافذ شدہ تنازعات کے حل کا متبادل قانون الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن (اے ڈی آر) کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا.

درخواست گزار وکیل فواد افضل خان صافی نے عدالت کو بتایا ہے کہ مذکورہ قانون میں فیصلہ ساز کمیٹی کو بااختیار بنایا گیا ہے جہاں پر وہ کسی بھی قسم کے تنازعات کے فیصلے کرسکتے ہیں اور پھر انہیں فیصلوں کا اطلاق عدالت کے ذریعے کیا جائے گا .

انہوں نے کہا ہے کہ اس قانون کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جبکہ صوبائی وزیرقانون کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ قانون کا نفاذ صوبے کے دیگر اضلاع تک بڑھایا جائے گا۔

درخواست گزار وکیل فواد افضل نے ٹی این این کو بتایا کہ 25 ویں آئینی ترمیم کے بعد جب سابقہ فاٹا صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا تو ‘کالا قانون ایف سی آر’ ختم ہوا اور قبائلی اضلاع کے عوام خوش تھے کہ اب وہ اپنے تنازعات جرگہ سسٹم کی بجائے عدالتی نظام کے ذریعے حل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے آخر میں صوبائی حکومت نے جرگہ سسٹم کی طرح اے ڈی آر کا بل پیش کیا جسے صوبائی حکومت نے پاس کرکے قانون کی شکل دے دی۔

ایڈوکیٹ فواد افضل نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا کہ یہ قانون صرف 6 قبائلی اضلاع میں نافذ کیا جائے گا، “اب اگر یہ قانون عوام کی فلاح کیلئے ہیں تو صوبے کی دیگر اضلاع میں کیوں ضم نہیں کیا جاتا”؟

فواد افضل نے کہا “یہ ہوبہو ایف سی آر کی طرح متبادل قانون ہے، اس قانون کے نفاذ کی اصل وجہ یہ ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ قبائلی اضلاع کے عوام بھی خیبرپختونخوا کے دیگر عوام کی طرح نظام انصاف سے مستفید ہوسکیں” ۔

انہوں نے سوال اُٹھایا کہ کمیٹی کی تجویز کردہ فیصلے کے نفاذ کیلئے پھر عدالتوں کا رُخ کیا جائے گا تو عدالتی نظام انصاف کے ساتھ متوازی نظام بنانے کی کیا ضرورت ہے؟

اُن کا کہنا ہے کہ پہلے میں نے پاس کردہ بل کو عدالت میں چیلنج کیا تھا لیکن عدالت میں کیس چلنے کے باوجود بھی حکومت نے نوٹیفیکیشن جاری کیا جسکے خلاف بھی عدالت کو بتایا گیا کہ عدالتی فیصلے تک قانون پر عمل درآمد روک دیا جائے۔

ایڈوکیٹ فواد نے کہا کہ جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس ناصر محفوظ پر مشتمل دو رُکنی بینچ نے درخواست کی دوبارہ سماعت 24 جون تک ملتوی کردی۔

حکومت کا موقف

حکومت نے تنازعات کے حل کے متبادل نظام کے قانون الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کو صوبے کی دیگر اضلاع تک بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیرقانون فضل شکور خان نے میڈیا کو بتایا کہ درحقیقت یہ قانون پورے صوبے کیلئے بنایا گیا ہے لیکن ہمارے بندوبستی علاقوں میں پہلے سے پولیس نے تنازعات کے حل کیلئے ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز (ڈی آر سیز) قائم کئے ہیں جسے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صوبے کی دیگر اضلاع میں بھی نافذ کیا جائے گا۔

وزیرقانون نے کہا کہ اے ڈی آر صوبائی اسمبلی کا متفقہ پاس کردہ قانون ہے جس میں انسانی حقوق کے خلاف کوئی شق موجود نہیں بلکہ عدالتی نظام پر بوجھ اور عوام کی اخراجات کم کرنے کیلئے یہ اقدام اُٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مصالحتی کمیٹی کے فیصلے پر کسی کو اعتراض ہو تو وہ فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔

فضل شکور خان نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے عوام جرگہ سسٹم سے واقف ہیں جسے یکدم عدالتی نظام میں لانا مشکل ہے اسلئے اُن کیلئے وہی طرز پر ایک قانون لایا تاکہ وہ اپنے مسائل کو بآسانی حل کرے۔

اے ڈی آر کیا ہے؟

خیبر پختونخوا حکومت نے رواں سال 20 مئی کو تنازعات کے حل کیلئے ایکٹ 2020 کے نام سے ایک قانون کا اعلامیہ جاری کیا تھا،جسے مختصر طور پر اے ڈی آر کا نام دیا گیا، اے ڈی آر کا نفاذ شمالی وزیرستان کے علاوہ جنوبی وزیرستان ، کرم ، اورکزئی، خیبر، مہمند اور باجوڑ تک محدود کیا گیا۔

اے ڈی آر کے تحت قبائلی اضلاع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ایک مصالحتی کمیٹی بنائی جائیگی جن میں اسسٹنٹ کمشنر، ڈی ایس پی لیول تک پولیس افسر، کونسلرز، خفیہ اداروں کے اہلکار او ملک شامل ہونگے۔

جب دو فریقین کے درمیان آپس میں کسی مسئلے پر اختلاف پیدا ہو جائے تو مصالحتی کمیٹی ان دونوں فریقین کے دلائل سنیں گے اور اے ڈی آر میں کمیٹی کو تین سے چھ ماہ کے اندر اندر کیس کو حل کرنے کا پابند بنا دیا گیا جس کے بعد کمیٹی میں ہونے والے فیصلے کے جزا اور سزا کا نفاذ مقامی عدالت کریگی۔