پشاور: قبائلی اضلاع کے حقوق کیلئے جماعت اسلامی کا احتجاجی دھرنا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ انضمام کے وقت قبائلی عوام کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے حکومت نے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا.

حکومت قبائلی عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرے، جانی خیل واقعہ افسوسناک ہے، ہم اسلام آباد کی جانب مارچ کی حمایت کرتے ہیں، پولیس نے لانگ مارچ کے شرکاء پر لاٹھی چارج کیا، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں، جانی خیل میں حکومت نے بہت ظلم کیا ہے۔

اس خون کا حساب پی ٹی آئی کی وفاقی اور صوبائی حکومت سے لیں گے۔ تشدد کا استعمال کرو گے تو آگ سے کھیلو گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی اسمبلی کے سامنے قبائلی اضلاع کے حقوق کے لئے علامتی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

دھرنے سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے نائب امیر عنایت اللہ خان، ممبر صوبائی اسمبلی سراج الدین خان، سابق ایم این اے صاحبزادہ ہارون الرشید، باجوڑ کے امیر حاجی سردار خان، مہمند کے امیر ملک سعید خان، خیبر کے امیر محمد رفیق آفریدی اور کرم کے امیر حکمت خان حکمتیار سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹری جنرل عبدالواسع، جے آئی یوتھ کے صوبائی صدر صدیق الرحمان پرچہ، نائب صدر شاہ جہان آفریدی اور نور غلام آفریدی اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات محمد جبران سنان بھی شریک تھے۔

دھرنے کے شرکاء نے صوبائی اسمبلی کے گیٹ تک مارچ بھی کیا۔

شرکائے دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق خان کا کہنا تھا کہ تین سال ہونے کو ہیں لیکن کوئی حقوق قبائلی عوام کو نہیں دیئے گئے، مردم شماری میں قبائلی آبادی کو کم بتایا گیا ہے لیکن خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے کم آبادی پر کوئی اختلافی نوٹ نہیں لکھا۔

قبائلی اضلاع میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، گڈ اور بیڈ طالبان کی صورت میں دہشت گردی، بارودی سرنگیں، مسنگ پرسنز، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی جاری ہے، غربت اور پسماندگی اور آئی ڈی پیز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر امن ہے تو کوکی خیل، بقا خیل، وزیر، محسود اور آفریدی ابھی تک کیوں مہاجر کیمپوں میں وقت گزار رہے ہیں۔ ہم قبائلی عوام کے حقوق کے لئے نکلے ہوئے ہیں، دھرنے سے تحریک کا آغاز کردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے، اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور پارلیمنٹ اور وزراعظم ہاؤس کے سامنے دھرنے دیں گے۔

جماعت اسلامی نے فاٹا مرجر کیلئے کیمپ لگائے اور مارچ کئے، ہم قبائلی اضلاع کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف نکلے ہیں۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپنے خطاب میں جنوبی وزیرستان سے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ علی وزیر گزشتہ ایک سال سے جیل میں قید ہیں، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں، یہ قبائل کے ساتھ ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے عوام کے اوپر گولیاں چلانا اور ریاستی طاقت کا استعمال فسطائیت اور دہشتگردی ہے۔

جانی خیل میں ریاستی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم جانی خیل کے لانگ مارچ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بارودی سرنگوں سے بچے شہید ہورہے ہیں، حکومت کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت ہے کہ ابھی تک فاٹا سے بارودی سرنگوں کا صفایا نہیں کیا جاسکا۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اٹھانا اور سالوں ان کو غائب رکھنا، ان کی لاشیں گرانا فاشزم اور فسطائیت اور اپنے عوام کے خلاف ریاستی طاقت سے بشری حقوق کا قتل عام ہے۔