پشاور ہائیکورٹ کا ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا کام جاری رکھنے کا حکم

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پشاور ہائی کورٹ میں ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد موجود ہونے کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس میں ڈائریکٹر ٹیکنیکل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی ٹی اے اور وکیل پی ٹی اے جہانزیب محسود عدالت میں پیش ہوئے۔

پی ٹی اے کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے کہا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد اب تک ٹک ٹاک سے 98 لاکھ غیر اخلاقی مواد کو ہٹایا گیا، اب تک عدالتی حکم پر 7 لاکھ 20 ہزار غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ کرنے والے اکاؤنٹ بلاک کر دیئے ہیں.

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے ٹک ٹاک کنٹنٹ موڈریٹرز کی تعداد بڑھائی گئی ہے۔

پی ٹی اے کے وکیل جہانزیب محسود ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد ٹک ٹاک نے پہلی بار پاکستان کے لئے فوکل پرسن مقرر کیا ہے جبکہ غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ ہونے سے پہلے سنسر کرنے کے لیے مختلف ممالک سے رابطے کیے.

انہوں نے مزید کہا ہے کہ پی ٹی اے نے رابطے کیے لیکن ٹک ٹاک ویڈیو سنسر کرنے کے لیے کوئی ڈیوائس موجود نہیں۔

چیف جسٹس قیصر رشید خان نے کہا کہ جو کام آپ کر رہے ہیں، اسے جاری رکھیں، ہم نہیں چاہتے کہ تفریح کے لیے ٹک ٹاک بند کیا جائے، غیر اخلاقی مواد جو اپ لوڈ ہوتا ہے.

اس نے کہا کہ ہمارے معاشرے پر برے اثرات پڑتے ہیں، ہمیں صرف اس کی فکر ہے، جو غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں، انہیں فلٹر کیا جائے۔

بعدازاں عدالت نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا کام جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 22 دسمبر تک ملتوی کر دی۔