ہراسانی کیس: اسلامیہ یونیورسٹی پشاور کے پروفیسر کی اپیل پر جلد فیصلے کا حکم

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پشاور ہائیکورٹ نے گورنر شاہ فرمان کو ہراسانی کیس میں اسلامیہ یونیورسٹی پشاور کے شعبہ پولیٹکل سائنس کے چیئرمین کو ہٹانے کے خلاف اپیل پر جلد فیصلے کا حکم دیا ہے۔

پشاور ہائیکورٹ میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں خواتین کی ہراسانی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس قیصر رشید خان نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات کا ہونا افسوسناک ہے، ایسے واقعات ہوتے رہے تو پھر یونیورسٹی میں طالبعلم آئیں گے اور نہ کوئی ملازمت کے لئے آئے گا۔

درخواست گزار کے وکیل عیسی خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ صوبائی محتسب نے انکوائری کرکے چیئرمین پولیٹکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کو ہٹانے کی ہدایت کردی ہے، وہ ہراسمنٹ میں ملوث پائے گئے ہیں.

انہوں نے اس فیصلے کے خلاف گورنر کو اپیل کی ہے جس کو دو ماہ ہوگئے لیکن اس پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

عدالت نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایسے واقعات روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں، اس کی رپورٹ پیش کی جائے۔

عدالت نے گورنر کو چیئرمین پولیٹکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کی اپیل پر جلد فیصلہ کرنے اور یونیورسٹی سنڈیکیٹ کو ملوث افراد کے خلاف کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 14 جولائی تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں ہراسمنٹ کے خلاف طالبات نے 11 نومبر 2020 کو احتجاج کیا تھا۔