قومی اسمبلی: تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی، شور شرابا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

قومی اسمبلی میں رواں مالی سال کے بجٹ سے متعلق جاری اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین اور اپوزیشن کے درمیان بدکلامی اور کشیدگی دیکھی گئی جس کے بعد اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے تقریر کا آغاز کیا تو وفاقی وزراء سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے ایوان میں شور شرابا شروع کیا اور ڈیسک پر بجٹ کتاب بجاتے رہے۔

اس موقع پر اسد قیصر نے ایوان کو چلانے کی کوشش کی اور حکومت و اپوزیشن اراکین سے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی نشستوں پر بیٹھنے اور اپوزیشن لیڈر کی تقریر سننے کا کہا۔

حکومتی اراکین کی جانب سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کے باعث اسپیکر قومی اسمبلی نے متعدد مرتبہ اعلان کیا کہ ایوان کی کارروائی کو جاری رہنے دیا جائے تاہم ناکامی پر انہوں نے ایوان کی کارروائی کو 30 منٹ تک ملتوی کردی۔

اجلاس کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں جھڑپ بھی ہوئی۔

دوران اجلاس اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب پی ٹی آئی کے اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے مسلم لیگ (ن) کے رکن شیخ روحیل اصغر کو بجٹ کی کتاب دے ماری اور ان کے لیے نا مناسب زبان استعمال کرتے رہے۔

اس کے بعد ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان جھڑپ ہوئی اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

بعد ازاں 30 منٹ التواء کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر تقریر کا آغاز کیا اور اس موقع پر انہیں اپوزیشن اراکین نے گھیر رکھا تھا، دوسری جانب اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین کا شور شرابا جاری رہا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے باعث اسپیکر نے اجلاس 20 منٹ کے لیے معطل کیا تھا لیکن وہ دوبارہ شروع نہ ہو سکا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اپنی تقریر میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ موجودہ حکومت نے اپنا چوتھا بجٹ پیش کردیا ہے، بجٹ باعث ریلیف ہونا چاہیئے لیکن یہ بجٹ باعث تکلیف ہے۔

شہباز شریف کی تقریر شروع ہوتے ہی حکومتی اراکین نے احتجاج اور شور شرابا کیا تھا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا تھا کہ اگر عوام کی جیب خالی ہے تو پھر بجٹ کے تمام اعداد و شمار جعلی ہیں، دن رات ریاست مدینہ کا ذکر کرنے والے اور مثال دینے والے حکمران کاش غربت کی لکیر سے نیچے بسنے والے کروڑوں پاکستانیوں کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھاتے، کاش وہ یتیم اور بیواؤں کی دعائیں لیتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔